بھارتی گایوں کے دودھ میں سونا نہیں، مودی حکومت کا اعتراف | حالات حاضرہ | DW | 13.03.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی گایوں کے دودھ میں سونا نہیں، مودی حکومت کا اعتراف

مودی حکومت کو اس تلخ حقیقت کا کڑوا گھونٹ پارلیمان میں پینا پڑا۔ مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر نے پارلیمان میں اعتراف کیا کہ دیسی گایوں اور غیرملکی نسل کی گایوں کے دودھ کے معیار میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔

بھارت میں مویشی پروری، ماہی گیری اور ڈیری کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ادارے راشٹریہ کام دھینو آیوگ(قومی گائے کمیشن) نے گذشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی نسل کی گایوں کا دودھ نسبتاً اس لیے زیادہ پیلا ہوتا ہے کیوں کہ اس میں سونے کے ذرّات پائے جاتے ہیں۔

اعتراف حقیقت

وائی ایس آر کانگریس کے ممبر پارلیمان سرینواسولو ریڈی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ویریندر کمار نے دیسی نسل کی گایوں کے حوالے سے حکومت سے سوالات پوچھے تھے۔ جس کے جواب میں مویشی پروری، ماہی گیری اور ڈیری کے وزیر سنجیو بالیان نے گذشتہ دنوں پارلیمان میں تحریری جواب میں بتایا ”انڈین کونسل آف ایگری کلچرل ریسرچ سے موصولہ معلومات کے مطابق غیرملکی نسل کی گایوں اور بھارتی نسل کی گایوں کے دودھ کے معیار میں فرق کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت دستیاب نہیں ہے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی نسل کی گایوں کو غیر ملکی نسل کے گایوں سے زیادہ معیاری بتانے کا دعویٰ سنجیو بالیان کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ادارے راشٹریہ کام دھینو آیوگ (آر کے اے)نے کیا تھا۔ مودی حکومت نے ملک میں گایوں اور اس سے حاصل ہونے والے دودھ، دہی، گھی، گوبراور پیشاب کی افادیت پر تحقیقاتی کام کرنے کے لیے اس ادارے کو سن 2019میں قائم کیا تھا۔

عجیب و غریب دعوے

آر کے اے نے بھارتی نسل کی گایوں کے بارے میں لوگوں کی معلومات میں اضافے کے لیے گذشتہ ماہ ایک بین الاقوامی آن لائن امتحان منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تقریباً پانچ لاکھ لوگوں نے اس امتحان کے لیے اپنے نام درج کرائے تھے۔ لیکن بعض اسباب کی بنا پر آخری وقت پر اسے منسوخ کردینا پڑا۔ اس امتحان کی تیاری کے لیے آر کے اے نے ایک کتابچہ تیار کیا تھا جس میں عجیب و غریب دعوے کیے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ’غیر سائنسی‘ دعووں کی خود وزارت کے بعض عہدیداروں نے مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے امتحان منسوخ کرنا پڑا۔

آر کے اے نے دعویٰ کیا تھا کہ جونا گڑھ یونیورسٹی نے اپنے تجربات میں پایا ہے کہ ”گائے کے پیشاب میں 752سے زیادہ اقسام کے ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے انتہائی سود مند ہیں۔“ 

’کینسر سے لے کر ذہنی مرض تک کا علاج‘

 آر کے اے نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ’گؤ ماتاکے دودھ‘ میں طبی خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے ڈاکٹر اسے پینے کی صلاح دیتے ہیں اور غیرملکی نسل کے گایوں کے دودھ سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

آر کے اے کا دعویٰ ہے کہ بھارتی گایوں کے دودھ سے ذیابیطس، کینسر، امراض قلب کی بیماریوں، موٹاپا، جوڑوں کے درد، دمہ، ذہنی بیماری جیسے متعدد امراض کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ غیر ملکی گائیں (جسے بھارت میں بالعموم انہیں جرسی گائے کہا جاتا ہے) بیماریوں کی جڑ ہیں۔ جرسی گائیں سست رہتی ہیں جب کہ بھارتی گائیں ”سخت محنتی ہوتی ہیں،صحت کے اصولوں پر عمل کرتی ہیں اور اتنی سمجھدار ہوتی ہیں کہ گندے جگہ پر بیٹھنا پسند نہیں کرتیں۔“

ویڈیو دیکھیے 02:41

گوبر - بھورے رنگ کا سونا

دعوے بے بنیاد

بھارتی ماہرین زراعت ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں مویشیوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ چار پانچ عشروں کے دوران جانوروں میں مصنوعی طریقے سے مادہ  منویہ داخل کرنے کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ خالص نسل کے جانور کا پتہ لگانا بھی ناممکن ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار اکنامک اسٹڈیز اینڈ پلاننگ میں پروفیسر وکاس راول کہتے ہیں ”مویشیوں کی نسلوں کے سروے میں 80فیصد جانوروں کی نسل کا پتہ نہیں چل سکا۔ یہ سب مخلوط نسل کے مویشی ہیں۔ اس لیے اگر غیرملکی نسل کے مقابلے میں بھارتی نسل کی گائے کا دودھ زیادہ بہتر کوالٹی کا ہو تب بھی خالص دیسی گایوں کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔“

لیکن ہم نہیں مانیں گے

سائنس داں اور ماہرین خواہ کچھ بھی کہیں، بی جے پی کے عقیدت مند اور رہنما اس بات پر مصر ہیں کہ بھارتی گائیں خوبیوں کا مجموعہ ہیں۔

بی جے پی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی گائے کے دودھ سے تیار گھی اور گوبر سے تیار اپلوں کے ذریعہ اگر کسی گھر میں سورج طلو ع ہونے اور غروب ہونے کے دوران ’ہون‘ (آگ میں جلانے کا عمل) کیا جائے تو وہ گھر بارہ گھنٹے تک سینیٹائز رہتا ہے اور وہاں کورونا وائرس داخل نہیں ہوسکتا۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کے سربراہ دلیپ گھوش نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی دیسی گایو ں میں ایک کوہان ہوتا ہے۔ اس کوہان میں ’سورن ناری‘ ہوتا ہے اور جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے تو ا س سے سونا پیدا ہوتا ہے۔

DW.COM