بھارتی پارلیمنٹ کے اراکین کو آئی پیڈ کے استعمال کی تربیت | سائنس اور ماحول | DW | 31.08.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بھارتی پارلیمنٹ کے اراکین کو آئی پیڈ کے استعمال کی تربیت

کاغذی کارروائیوں میں کمی کرنے اور پارلیمان کے اراکین کو جدید ٹیکنالوجی سے قریب تر کرنے کے لیے بھارتی قانون سازوں کو آئی پیڈ کے استعمال کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔

بھارتی لوک سبھا کا بیرونی منظر

بھارتی لوک سبھا کا بیرونی منظر

بھارتی پارلیمان کے سات سو نوے اراکین کے لیے حکومت نے ایک بجٹ مختص کیا ہے، جس کے ذریعے اراکین پارلیمان کو آئی پیڈ کے استعمال کی تربیت دی جائے گی۔ اس حوالے سے ہر رکن کے لیے پچاس ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس تربیت کا مقصد قانون سازوں کی عوامی مسائل کے حل سے متعلق کارروائیوں کی رفتار تیز بنانا ہے تاکہ وہ سست رو کاغذی کارروائیوں سے جان چھڑا سکیں۔

Symbolbild ipad Zeitung Zeitungen Nachrichten

ایپل آئی پیڈ دنیا بھر میں مشہور ہے

بھارتی لوک سبھا کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جوائنٹ سیکریٹری شردھا سبرمنیئم کے مطابق، ’’ہم نے پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے ٹیبلیٹ ایپلیکیشنز کے استعمال سے متعلق ایک اوریئنٹیشن کلاس کا انعقاد کیا، جس کا مقصد کاغذوں اور فائلوں کے اس پلندے کو کم کرنا ہے، جو پارلیمنٹ کے ہر اجلاس کے بعد جمع ہو جاتا ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمپیوٹرز کی مدد سے ماضی میں پارلیمنٹ میں کی جانے تقاریر اور سوالات و جوابات تک رسائی بھی حاصل کی جاسکے گی۔ ان نے کہا کہ اپر ہاؤس کے دو سو پینتالیس میں سے سو اراکین کو ایپل آئی پیڈز اور سامسنگ گیلیکسی ٹیبلٹس کی قیمت ادا کردی گئی ہے۔

تریسٹھ سالہ ایم پی نٹچیاپان، جن کا تعلق حکمران کانگریس پارٹی سے ہے، اپنے روز مرہ کے دفتری کاموں کے لیے آئی پیڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کو اپنے چیمبر میں نوٹس لینے کے لیے ٹیبلیٹس کے استمال کی تو اجازت ہے تاہم ابھی تک ان کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

 

DW.COM