بھارتی قومی سلامتی مشیر کا ’اچانک‘ دورہ افغانستان | حالات حاضرہ | DW | 15.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی قومی سلامتی مشیر کا ’اچانک‘ دورہ افغانستان

بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے افغانستان کا ’بڑ ی خاموشی سے‘ دو روزہ دورہ کیا۔ سفارتی امور کے ماہرین موجودہ سیاسی پس منظر میں اس دورے کو کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔

 افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحہ میں امن مذاکرات شرو ع ہونے کے بعد اور امریکا میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے عین قبل کسی اعلی بھارتی عہدیدار کا کابل کا یہ پہلا دورہ ہے۔

بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے اس دورے کو نئی دہلی میں انتہائی رازداری میں رکھا گیا اور افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے بعد اس کا پتہ چلا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ”فریقین نے انسداد دہشت گر دی میں تعاون اور افغانستان میں امن کی حمایت کے لیے علاقائی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوششوں کے متعلق تبادلہ خیال کیا۔"

بعد میں دہلی میں افغانستان کے ناظم الامور طاہر قادری نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ڈوبھال افغانستان کے دو روزہ دورے پر تھے۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون اور افغان امن مساعی کے لیے علاقائی اتفاق رائے کو مستحکم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔ انہوں نے افغان اعلی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور اپنے ہم منصب حمد اللہ محب کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔

Afghanistan Kabul Einweihung Parlamentsgebäude Modi Ghani

وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تھا

دورے کی اہمیت

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس مفاہمت کے آغاز اور اس سال جنوری کے اوائل میں دوحہ میں بین افغان مذاکرات بحال ہونے کے بعد سے اجیت ڈوبھال کابل کا دورہ کرنے والے پہلے اعلی بھارتی عہدیدار ہیں۔

اس دورے کی اہمیت کے حوالے سے سابق بھارتی سفارت کار ذکر الرحمان نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ”یہ دونوں ملکوں کے مابین رابطے کی ملاقات تھی کہ دونوں مستقبل میں کس طرح کام کریں گے۔ امریکا میں بائیڈن انتظامیہ آرہی ہے تو نئے لائحہ عمل طے کیے جائیں گے۔ ڈوبھال صاحب کی افغان رہنماوں کے ساتھ اس حوالے سے یقیناً بات ہوئی ہوگی۔"

 انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تو واضح طور پر کہا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلالیں گے لیکن بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا صورت بنتی ہے۔ اس پر بھارت اور افغانستان دونوں ہی غور کر رہے ہیں۔

علاقائی اور عالمی صورت حال پر صلاح و مشورہ کے لیے بھارت اور افغانستان کے رہنماوں کے درمیان ملاقات کا سلسلہ چلتا رہتاہے۔ گزشتہ اکتوبر میں عبداللہ عبداللہ بھارت آئے تھے اور انہوں نے دیگر رہنماوں کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی تھی۔ افغانستان کے انتہائی با اثر رہنماوں میں سے ایک عبدالرشید دوستم نے بھی ستمبر میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

طالبان، بھارت کے لیے ایک پیچیدہ عنصر

افغانستان اسٹریٹیجک لحاظ سے بھارت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بین افغان امن مذاکرات پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ برس فروری میں دوحہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کے دوران بھی بھارت موجود تھا جبکہ گزشتہ ستمبر میں بین افغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں بھی بھارتی وفدنے شرکت کی تھی اور وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکاء سے خطاب کیا تھا۔

افغانستان سے تعلقات میں تاہم طالبان، بھارت کے لیے ایک پیچیدہ عنصر ہے۔ جب سوویت روس کی پسپائی کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا۔2001 میں طالبان حکومت کی معزولی اور حامد کرزائی حکومت کے قیام کے بعد ہی بھارت اور افغانستان میں سفارتی رشتے استوار ہوئے۔ اشرف غنی کی حکومت میں باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

سابق بھارتی سفارت کار ذکر الرحمان کہتے ہیں کہ ابھی خود افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بہت سے امور پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے اس لیے بھارت کا طالبان کے حوالے سے محتاط رویہ اپنانا بالکل مناسب ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:58

پاکستان اور افغانستان سے ایران کیا توقع کر رہا ہے؟

پاکستان کی کوششیں

بھارت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اپنی پسند کی حکومت کے قیام کا فیصلہ افغان عوام کا حق ہے۔ نئی دہلی کا تاہم الزام ہے کہ پاکستان اس میں رخنہ ڈالنے اور بھارت اور افغانستان کے رشتوں میں دراڑ  پیدا کرنے کی بھی کوششیں کرتا رہتا ہے۔

بھارت کے سابق سفارت کار ذکر الرحمان کا خیال ہے کہ ”پاکستان یقیناً ایسا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہےگا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعلقات اسلام آباد کے مفاد میں نہیں ہیں اور افغانستان اس کے زیر اثر رہے۔" 

ذکر الرحمان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بالخصوص افغان عوام کے دلوں سے بھارت کی محبت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہزاروں افغانی بھارت میں مقیم ہیں جبکہ بھارت انفرا اسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں افغانستان کی کافی مدد کر رہا ہے۔ بھارت کی مدد سے افغان پارلیمان کی نئی عمارت تعمیر ہوئی ہے جس کا گزشتہ برس وزیر اعظم نریندرمودی نے افتتاح کیا تھا۔

 

 

DW.COM