بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید چار پاکستانی شہری ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 31.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید چار پاکستانی شہری ہلاک

پاکستان کو اس وقت نہ صرف اندرونی سیاسی انتشار بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ آج سرحد پار سے ہونے والی بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید چار پاکستانی شہری ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین پائی جانے والی کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق آج پیر کے روز صوبہ پنجاب کے نکیال سیکٹر میں ہونے والی بھارتی شیلنگ کے نتیجے میں کم از کم چار شہری ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی افسر ذیشان نثار کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ چار ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔‘‘

 اس پاکستانی افسر کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے نکیال سیکٹر میں بمباری کا سلسلہ صبح آٹھ بجے کیا تھا اور یہ دن بھر جاری رہا۔ اسی طرح اس علاقے کے ایک دوسرے پاکستانی عہدیدار عدنان خورشید نے بھارتی فورسز کی فائرنگ اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دستوں نے کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب چار پاکستانی فوجی چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس بھارتی دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

قبل ازیں پاکستانی حکام نے جمعہ اٹھائیس اکتوبر کو کہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقے میں بھارتی دستوں کی فائرنگ اور گولہ باری سے تین عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

Indien Neu Delhi Pakistanische Botschaft Soldaten (picture-alliance/dpa/M. Sharma)

گزشتہ ہفتے بھارت نے ایک پاکستانی سفارت کار کو ’جاسوسی‘ کے الزام میں ملک بدر کر دیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی ایک بھارتی سفارت کار کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک سے نکال دیا تھا

 اس طرح گزشتہ سات دنوں کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد سات بنتی ہے۔

جمعے ہی کے روز بھارتی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کنٹرول لائن کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں ایک بھارتی فوجی مارا گیا ہے، جس کی لاش کو مبینہ طور پر پیچھے ہٹتے ہوئے ’عسکریت پسندوں‘ نے اپنی واپسی سے قبل مسخ بھی کر دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین نہ صرف سرحدی بلکہ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت نے ایک پاکستانی سفارت کار کو ’جاسوسی‘ کے الزام میں ملک بدر کر دیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی ایک بھارتی سفارت کار کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک سے نکال دیا تھا۔

دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ابھی تک حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں تقریباﹰ نوے کشمیری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اشتہار