بھارتی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں میں 23 افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں میں 23 افراد ہلاک

بھارت میں شہریت سے متعلق متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں جاری مظاہروں میں اب تک کم از کم تیئیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم آج نئی دہلی میں بی جے پی کی ایک ریلی میں شرکت کریں گے۔

متنازعہ قانون کے خلاف کئی دنوں سے جاری مظاہروں کے بعد اب بھارت میں حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ملکی دارالحکومت میں ایک ریلی کا انعقاد کر رہی ہے۔ آج اتوار کے روز منعقد ہونے والی اس ریلی میں ملکی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شرکت کریں گے۔

مودی حکومت کو بھارتی شہریت کے ایک متنازعہ قانون کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے اور آج نئی دہلی میں ریلی منعقد کرنے کا بظاہر مقصد حکمران جماعت کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:07

بھارت میں پاکستانی ہندوؤں نے نئی شہریت بل کا خیرمقدم کر دیا

ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کا کہنا ہے کہ ملکی شہریت کا نیا قانون سن 2015 کے بعد افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہجرت کر کے بھارت آنے والے پناہ گزینوں کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ تاہم مظاہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہ کر کے ہندو قوم پرست جماعت مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر نوجوان

نئی دہلی سمیت ملک بھر میں آج اتوار کے روز بھی مزید مظاہروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے عوامی اجتماعات پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ کی بندش سمیت متعدد اقدامات کر رکھے ہیں، لیکن ان کے باوجود یہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔

مظاہروں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے ملک بھر میں اب تک کم از کم 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں آبادی کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہوئیں، جہاں کم از کم نو مظاہرین ہلاک ہوئے۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بیس فیصد کے قریب ہے۔

اترپردیش پولیس کے ترجمان پروین کمار سنگھ کے مطابق پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران ہلاک ہونے والے تمام نو مظاہرین نوجوان تھے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پولیس ان نوجوان کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق پولیس ترجمان کا کہنا تھا، ''کچھ افراد گولیاں لگنے سے آنے والے زخموں کے باعث ہلاک ہوئے، لیکن یہ زخم پولیس کی گولیوں کے نہیں تھے۔ پولیس نے پرتشدد مظاہرین کو ڈرانے کے لیے صرف آنسو گیس استعمال کی تھی۔‘‘

بھارتی حکام کے مطابق دس دن سے جاری ملک گیر مظاہروں کے دوران کم از کم 1500 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں قریب چار ہزار افراد کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

ش ح / م م (اے پی، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 02:08

شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف بھارت میں مظاہرے