بھارتی سپریم کورٹ کا ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے سے انکار | حالات حاضرہ | DW | 17.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی سپریم کورٹ کا ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے سے انکار

بھارت میں سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر اور شمال مشرق کی ان سات ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے سے آج منگل کو انکار کردیا، جہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کے مقابلے ان کی آبادی کم ہے۔

عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر ہندو بے شک اکثریت میں ہیں لیکن آٹھ ریاستوں میں وہ اقلیت میں ہیں اس لیے انہیں اقلیتی حیثیت دی جانی چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے تاہم کہا کہ مذہب کو الگ الگ ریاست کے بجائے پورے ملک کے تناظر میں دیکھاجانا چاہیے اور اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں تو اس میں پریشانی کیا ہے۔؟

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے عدالت عظمی میں ایک عرضی دائر کر کے سن 1993 کے اس حکومتی حکم نامہ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی، جس کی رو سے بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں کواقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اپادھیائے نے اسی کے ساتھ ہر ریاست میں آبادی کی بنیاد پر اقلیتوں کی شناخت کے لیے مرکزی حکومت کو نئی گائیڈ لائنس جاری کر نے کی بھی درخواست کی تھی۔ بھارت میں مذکورہ پانچ مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ جینیوں کو سن 2014 میں اقلیت قرار دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے اس عرضی پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ”زبانیں ریاستی سطح پر محدود ہیں۔ مذاہب کی کوئی ریاستی سرحدیں نہیں ہوتی۔ ہمیں اسے پورے بھارت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ لکش دیپ میں مسلمان ہندو قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں تو اس میں آپ کو کیا پریشانی ہے؟"

سپریم کورٹ نے اپنے حکم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا،”زبانوں کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل ہوئی تھی لیکن مذہب کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے ریاستی آبادی کی بنیاد پر کسی فرقہ کو اقلیتی حیثیت نہیں دی جاسکتی ہے۔"

بی جے پی کے رہنما نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ہندو جو بھارت کی قومی مردم شماری کے مطابق اکثریت میں ہیں، وہ جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں اقلیت میں ہے۔ اس کے باوجود وہ اقلیتوں کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعا ت سے محروم ہیں۔

اشونی اپادھیائے کی دلیل تھی کہ شمال مشرق ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں جب کہ وہاں کی اسّی سے نوے فیصد مسیحی آبادی اقلیتو ں کو ملنے والی مراعات کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق لکش دیپ میں ہندوؤں کی تعداد 2.5 فیصد، میزورم میں 2.75 فیصد، ناگالینڈ میں 8.75 فیصد، میگھالیہ میں 11 فیصد، جموں و کشمیر میں 28 فیصد، اروناچل پردیش میں 29 فیصد، منی پور میں31 فیصد اور پنجاب میں 38.40 فیصد ہے۔  لیکن اقلیتوں کو ملنے والی حکومتی مراعات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے کیوں کہ وفاقی حکومت نے انہیں قومی اقلیتی کمیشن قانون کے تحت اقلیت قرار نہیں دیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آٹھ ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں لیکن مرکز اس عرضی کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے سابقہ آئینی بینچوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا، جس میں لسانی بنیاد پر اقلیت کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اپادھیائے کو اس سے پہلے عدالت نے اس معاملے پر قومی اقلیتی کمیشن سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا لیکن انہوں نے اس شکایت کے ساتھ دوبارہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ قومی اقلیتی کمیشن ان کے معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہا۔

ویڈیو دیکھیے 03:07

بھارت میں پاکستانی ہندوؤں نے نئی شہریت بل کا خیرمقدم کر دیا

 ج ا / ع ا (خبر رساں ادارے )

DW.COM