بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کا سالانہ جائزہ | حالات حاضرہ | DW | 31.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کا سالانہ جائزہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل حالیہ رپورٹ عالمی برادری خصوصا جنوبی ایشیائی ریاستوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے اور ایک آئینہ بھی۔

’جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد‘ اور ’تنظیم برائے والدین لاپتہ افراد‘ کی مشترکہ رپورٹ میں سن 2018 میں رونما ہونے والے حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ زندگی کا روزمرہ بن چکا ہے۔ اس دوران آزادی کا مطالبہ کرنے والے کارکن اور انہیں کچلنے کے لیے موجود سات لاکھ ریاستی اہلکار گویا ’پتھرائے‘ گئے ہیں۔ قوم پرستی اور مذہب پرستی کے نام پر مفاد پرستی کے چلن نے جنوبی ایشیا کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ بنا ڈالا ہے۔

رپورٹ میں سن 2018 کو اس دہائی کا مہلک ترین برس قرار دیا گیا ہے۔ اس برس 586 افراد قتل ہوئے جن میں 160 سویلین،267 مسلح باغی اور بھارت کی مسلح افواج اور پولیس کے159 اہلکار شامل تھے۔ اس برس قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجہ میں مسلح باغیوں کی ہلاکتیں (267) درحقیقت 2016 اور سن 2017 کے مقابلہ میں زیادہ تھیں کہ جب بالترتیب 145 اور108 مسلح باغی قتل ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیاسی کارکن بھے تھے، سماجی کارکن بھی، پولیس اور فوجی اہلکار بھی۔ فریقین کے اہل خانہ پر ٹارگٹ حملوں کے واقعات بھی ہوئے۔ انہی مقتولین میں دو ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا دماغی توازن درست نہ تھا۔

اس برس جو 160 عام شہری ہلاک ہوئے، ان میں 71 مسلح افواج کے ہاتھوں، 29 کنٹرول لائن پر گولہ باری کے شکار ہوئے، 25 نامعلوم افراد کا نشانہ بنے، 10 بم دھماکوں میں مارے گئے، ایک شہری پتھراؤ کے نتیجہ میں ہلاک ہوا، ایک کو سیکیورٹی گارڈ نے قتل کر دیا اور ایک آٹھ سالہ بچی کو جموں و کشمیر پولیس کے سپیشل افسروں نے زنابالجبر کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق 2008سے 2018 کے دوران 1081عام شہری ہلاک ہوئے۔

Indien Proteste in Kaschmir

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تام شہروں اور قصبوں کی سڑکوں پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ناکے موجود ہیں

پیلٹ گن کا استعمال

رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی سے 9 مئی کے دوران 115 افراد کو شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں پیلٹ گن یا چھرے والی بندوقوں اور دیگر ہتھیاروں سے لگے زخموں کی سبب داخل کیا گیا۔ ان میں 74 کو پیلٹ گن کے چھرے لگے تھے جن میں 60 کو آنکھوں میں زخم آئے تھے۔ ہسپتال کے ایک سرجن کے مطابق، سکیورٹی فورسز کے اہلکار مظاہرین کے سینوں، گردن، سروں اور پیٹ پر فائرنگ کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مظاہرین کو قتل یا اندھا کیا جائے۔ سن 2016 سے اب تک پیلٹ گن سے 1253 افراد اندھے ہو چکے ہیں اور ان میں 61 ایسے تھے جن کی دونوں آنکھیں ضائع ہوئیں۔ ان میں بیشتر نوجوان اور بچے تھے۔ 25 نومبر کو شوپیاں میں ایک 19 ماہ کی بچی پیلٹ گن کے چھروں کا نشانہ بنی۔

پبلک سیفٹی ایکٹ

رپورٹ میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے، پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے تحت، قانون سے بالادست اختیارات کا تذکرہ تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سن 2018 میں مسلح اداروں کی جانب سے ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے 191 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ گھیراؤ اور تلاشی کے 275 اپریشن کیے گئے جس دوران 143 مقابلوں میں267 مسلح باغی ہلاک ہوئے۔ گھروں کو جلانے اور توڑ پھوڑ کے 120 واقعات ہوئے جن میں 31 گھروں کو مکمل طور پر نذرآتش کر دیا گیا اور 94 کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس قانون کے تحت معروف سیاسی راہنما مسرت عالم بھٹ کو سینتیسویں مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ عدالت ہر مرتبہ انکی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ گیارہ برسوں میں دس برس جیل میں گزار چکے ہیں۔

 جون کے مہینہ میں حکومت نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے سیکشن 10 میں ترمیم کرتے ہوئے ملزموں کو کشمیر سے باہر رکھنے کی اجازت دے دی جس کے تحت اس وقت 40 افراد کشمیر سے باہر قید ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کردہ اپیل عدالتی مراحل میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سینکڑوں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو نظربند یا گرفتار کیا گیا ہے۔ شہریوں کو تفتیش کے لیے تھانوں یا فوجی کیمپوں میں بلانا، اور کئی دنوں تک انہیں ہراساں کرنا ایک معمول کی بات ہے۔

Kashmir Baby Hiba Jan Konflikt

بیس ماہ کی حبہ جان کی بائیں آنکھ میں پیلٹ گن کا چھرے لگا تھا۔ یہ اُس کی ہسپتال میں لیٹے ہوئے کی تصویر ہے

لاپتہ افراد اور اجتماعی قبریں

اس برس تین افراد لاپتہ ہوئے، جو بعد ازاں مردہ پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر میں اب تک 8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، باندی پورہ اور کپواڑہ سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے  ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 7000 سے زائد بے شناخت اور اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ فروری میں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ یافتہ کارکن پرویز امروز کی سربراہی میں تنظیم والدین لاپتہ افراد کے وکلا کو اجتماعی قبروں کے مقامات پر جانے کی ممانعت کر دی گئی۔

اظہار رائے اور صحافت پر قدغن

اس برس سینئر صحافی اور معروف اخبار رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر انچیف، شجاعت بخاری کو قتل کر دیا گیا۔ یہ اندوہناک واقعہ اس دن پیش آیا جب اقوام متحدہ نے بھارتی مسلح افواج کی جانب سے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدید تنقید پر مبنی رپورٹ جاری کی۔ اسی طرح آسیہ اندرابی کا انٹرویو کرنے پر صحافی عاقب جاوید کو طلب کیا گیا اور ہراساں کیا گیا۔ 2018 میں بھی غیرملکی صحافیوں کے لیے کشمیر میں سفر کے لیے خصوصی اجازت لازم قرار پائی۔ اسی طرح کشمیر کی صورتحال پر ایک دستاویزی فلم دکھانے کی پاداش میں الجزیرہ کو سیکیورٹی کلٍئرینس نہیں دی گئی۔ صحافی آصف سلطان کو یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا کہ وہ اپنے گھر میں دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ اس کی گرفتاری کے خلاف صحافیوں کی عالمی تنظیموں نے احتجاج اور اپیلیں کیں۔

Indien Kämpfe in Kaschmir

بھارتی زیرکنٹرول کشمیر کے مختلف مقامات پر مکانات کو بھی سکیورٹی فورسز نے نذرِ آتش کیا

رپورٹ میں سوشل میڈیا پر عائد قدغنوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ریاستی اداروں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ کی نگرانی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے جہاں انفرادی خلوت اور پرئیویسی کا حق سیکیورٹی کے خبط کی نذر ہو چکا ہے۔ حکومت 500 کروڑ کی لاگت سے سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک جال بچھا رہی ہے جس کے تحت کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں، بینکوں، صنعتی یونٹوں، مذہبی مقامات، ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسوں، ہسپتالوں، سڑکوں، گلیوں، بازاروں، کھیل کے میدانوں غرض ہر جگہ کی نگرانی کرے گی۔ سوشل میڈیا پر دی گئی رائے پر گرفتاری اور کئی دنوں تک پوچھ گچھ معمول ہے۔ 

خواتین اور بچے

رپورٹ میں ایک آٹھ سالہ بجی کے اغوا اور زنابالجبر کے بعد قتل کا واقعہ بیان کی گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سن 1991 میں کنن پوشپورہ میں اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے اجتماعی زنا بالجبر کے واقعے کا ذکر بھی کیا گیا جس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر سماعت ہے۔ فروری میں جموں کشمیر سول سوسائٹی اتحاد نے کشمیر انسانی حقوق کمشن کو جنسی تشدد اور ہراسی کے 143 واقعات کی شکایت درج کرائی۔ سن 2018 میں 31 بچوں کا قتل ہوا۔ یہ کل 159  سویلین ہلاکتوں کا تقریبا 20 فیصد ہے۔ اسی طرح نابالغ افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے اور قید رکھنے کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ ریاستی اسمبلی نے 2012 میں اس قانون کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر افراد کی گرفتاری کی ممانعت کر دی ہے۔

2018 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کل 20 افراد نے خود کشی کی۔ 2004 سے اب تک آپسی جھگڑوں میں 77 اہلکار قتل ہو چکے ہیں۔

DW.COM