بھارتی خاتون کو گینگ ریپ کے بعد دہلی کی سڑکوں پر پھرایا گیا | حالات حاضرہ | DW | 28.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی خاتون کو گینگ ریپ کے بعد دہلی کی سڑکوں پر پھرایا گیا

بھارت میں ایک جوان ماں کے اغوا اور پھر گینگ ریپ کے بعد مبینہ ملزمان نے اسے دن دیہاڑے ملکی دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر پھرایا۔ پولیس کے مطابق متعدد خواتین سمیت گیارہ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس نئے واقعے کو بھارت میں خواتین کے خلاف انتہائی نوعیت کے جنسی جرائم کی تازہ ترین مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وسیع تر مذمت کی جا رہی ہے۔ نئی دہلی کے خواتین کے لیے کمیشن اور ریاستی وزیر اعلیٰ نے بھی اس جرم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے 'شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

ریپ کے معاملے میں بھارتی سیاست دانوں کی بے حسی؟

اس واقعے کی بھارت میں سوشل میڈیا پر فوٹیج بھی گردش کر رہی ہے، جس کی آزاد اور غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق تو نہیں ہو سکی مگر اس فوٹیج میں متاثرہ خاتون کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کلپ میں دکھائی دیتا ہے کہ اس جرم کا نشانہ بننے والی خاتون کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی تھی اور اس کے بال بھی کاٹ دیے گئے تھے۔

دیکھنے والے ویڈیوز بناتے رہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس ویڈیو فوٹیج میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس خاتون کو نئی دہلی کی سڑکوں پر دھکے دیتے ہوئے کئی خواتین اس کی تذلیل کر رہی تھیں اور دیکھنے والے راہ گیروں میں سے بہت سے نہ صرف خوشی کا اظہار کر رہے تھے بلکہ اپنے اپنے موبائل فونز کے ذریعے اس واقعے کی ویڈیوز بھی بنا رہے تھے۔

پاکستان سے شکست پر ویراٹ کوہلی کی نو ماہ کی بچی کو ریپ کی دھمکی

نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس آر ستیاسندرم نے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ چھبیس جنوری کے روز دہلی کے مشرقی حصے کے علاقے شاہدرہ میں پیش آیا، جو چند ہمسایوں کے مابین دشمنی کا نتیجہ تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:19

آٹھ سالہ آصفہ کا ریپ اور قتل، بھارت سراپا احتجاج

دشمنی کی وجہ

آر ستیاسندرم نے اے ایف پی کو بتایا، ''گیارہ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں کئی خواتین اور دو نابالغ ملزمان بھی شامل ہیں۔ ان سب کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس واقعے کے مرتکب ملزمان میں خواتین ہی پیش پیش تھیں۔

بھارت: ریپ کے ملزموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر خود سوزی

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق متاثرہ خاتون ایک اکیس سالہ شادی شدہ عورت ہے، جس کے ساتھ ایک سولہ سالہ لڑکا تعلقات قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس خاتون کی طرف سے انکار پر اس لڑکے نے مبینہ طور پر ایک چلتی ہوئی ریل گاڑی کے آگے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی تھی۔

خود کشی کرنے والا سولہ سالہ لڑکا مبینہ طور پر انہی مشتبہ ملزمان کا رشتے دار تھا، جو اس خاتون کے خلاف دو روز قبل کیے جانے والے مبینہ جرائم کے مرتکب ہوئے۔

'مردوں اور لڑکوں نے بھی ریپ کیا‘

اس واقعے کی 21 سالہ متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے خاندان کے افراد نے پہلے اغوا کیا، پھر اسے کئی مردوں اور نابالغ لڑکوں نے ریپ کیا جب کہ اس دوران اس خاندان کی عورتیں ان مردوں کو اشتعال دلاتی رہی تھیں۔ خاتون کے بیان کے مطابق، بعد ازاں اسے لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور پھر نئی دہلی کی سڑکوں پر پھرایا گیا۔

بھارت: اجتماعی زیادتی اور قتل پر وومن کمیشن کا متنازعہ بیان

ویڈیو دیکھیے 01:50

بھارت: گینگ ریپ کے ملزم کی رہائی پر احتجاج

دہلی پولیس کے ایڈیشنل کمشنر بسوال نے بتایا، ''ہم اس واقعے کی ویڈیو کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملزمان کو شناخت کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ابھی مزید ملزمان گرفتار کیے جائیں گے۔‘‘

متاثرہ خاتون دو سالہ بچے کی ماں

اس جرم کا نشانہ بننے والی خاتون کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک دو سالہ بچے کی ماں ہے اور اس وقت اس کی نفسیاتی مدد کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ متعلقہ علاقے میں پولیس کے ایک ایسے بوتھ سے بمشکل 50 میٹر کی دوری پر پیش آیا، جہاں اس وقت کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔

یوپی میں ایک اور دلت لڑکی کا اجتماعی ریپ اور موت

بھارت میں نئی دہلی ہی میں 2012ء میں پیش آنے اور ملک بھر میں وسیع تر عوامی مظاہروں کا سبب بن جانے والے ایک طالبہ کے گینگ ریپ اور پھر قتل کے واقعے کے بعد ریپ سے متعلق ملکی قوانین میں ترامیم کر دی گئی تھیں۔ اس کے باوجود سالانہ بنیادوں پر 2020ء میں بھی وہاں ریپ کے 28 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

دہلی گینگ ریپ کے ایک مجرم کی رحم کی اپیل رد

یہ بھارت میں پولیس کو رپورٹ کیے گئے واقعات کی تعداد ہے جبکہ ماہرین کے مطابق ایسے بہت سے واقعات پولیس کو اس لیے رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے کہ متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو اپنی بدنامی کا ڈر ہوتا ہے یا پھر ایسے جرائم کے مرتکب اکثر مجرمان سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔

م م / ع ا (اے ایف پی، ٹوئٹر)