′بھارتی خاتون پر سعودی کفیل خاندان کا تشدد‘ | وجود زن | DW | 22.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

'بھارتی خاتون پر سعودی کفیل خاندان کا تشدد‘

بھارت کے شہر حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی چوبیس سالہ صبا فاطمہ کو مبینہ طور پر انسانی اسمگلروں نے سعودی عرب بھجوا دیا تھا جہاں اس کے کفیل خاندان نے اس لڑکی پر گرم تیل پھینک دیا۔

بھارت کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گرم تیل سے اس لڑکی کی ایک ٹانگ، بازو اور پیٹ جھلس گیا ہے۔ فاطمہ کی والدہ مہراج اونیسا نے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی بیٹی کو واپس بھارت لانے میں مدد کریں۔ انٹرنیٹ پر فاطمہ کی والدہ کی شائع ہونے والی ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں،’’ میں صرف اپنی بیٹی کی واپسی چاہتی ہوں۔‘‘ فاطمہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں فاطمہ کا کفیل خاندان ماہانہ تنخواہ بھی باقاعدگی سے ادا نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی بیٹی کو مناسب کھانا دیا جاتا ہے۔

فاطمہ کی بہن فرہین نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا،’’ ایجنٹوں نے اس کی بہن کو سعودی عرب میں بیوٹی پارلر میں کام کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن جب وہ سعودی عرب پہنچی تو انہوں نے اسے ایک گھر بھجوا دیا جہاں اسے ایک ملازمہ کے طور پر کام کرنا تھا۔‘‘ فرہین کا کہنا ہے کہ کچھ ہی ماہ میں اس کی بہن نے سعودی خاندان کے تشدد اور زیادتی کی شکایت کرنا شروع کر دی تھی۔

بھارت: کم عمری کی شاديوں کی روک تھام ميں مساجد کا کردار

’کمزور نہ کو ہاں سمجھا جائے‘، عدالتی فیصلے پر تنقید

واضح رہے کہ بھارت اور خصوصی طور پر حیدر آباد سے بھارتی لڑکیوں کےخلیجی ممالک کو اسمگل کرنے کے واقعات عام ہیں۔ بعض اوقات ان ممالک کے شہری نوجوان بھارتی لڑکیوں سے شادیاں کروا لیتے ہیں اور انہیں اپنے ممالک بلوا کر اکثر گھریلو ملازموں کے طور پر رکھتے ہیں۔ 

DW.COM

اشتہار