بھارتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت: ’کشمیر کا غزہ‘ کہاں ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت: ’کشمیر کا غزہ‘ کہاں ہے؟

سری نگر کے اس مضافاتی علاقے کو ’کشمیر کا غزہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے واحد داخلی راستے پر مقامی نوجوانوں کا پہرہ رہتا ہے جبکہ مقامی مسجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر روزانہ بھارت سے آزادی کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

بھارت کے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد سری نگر کے مضافاتی علاقے سورہ کے رہائشیوں نے اپنے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا تاکہ بھارتی سکیورٹی فورسز اس علاقے میں داخل نہ ہو سکیں۔

اگست کے اوائل سے ہی یہاں کے رہائشیوں نے تیل کے ڈرموں، لکڑی اور سیمنٹ کے ستونوں کی مدد سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ متعدد سڑکوں پر گڑھے بھی کھودے گئے ہیں تاکہ بھارتی سکیورٹی فورسز وہاں روزانہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔

رات کو اس علاقے کے داخلی راستے پر پہرہ دینے والے مقامی رضاکار نوجوان مفید کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''وہ صرف ہماری لاشوں سے ہی گزر کر سورہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی بھارت کو نہیں دیں گے۔‘‘ مفید کا مزید کہنا تھا، ''جس طرح غزہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے، بالکل اُسی طرح ہم اپنی پوری طاقت سے اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔‘‘

کشمیری گزشتہ تین دہائیوں سے بھارت کی حکمرانی کے خلاف بغاوت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک اس تنازعے میں ہزارہا افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر تعداد عام شہریوں کی تھی۔

کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے سے پہلے نئی دہلی حکومت نے اس خطے میں اپنے مزید ہزاروں فوجی تعینات کر دیے تھے جبکہ پہلے ہی کشمیر میں پانچ لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ بھارت کی طرف سے وہاں اتنے زیادہ فوجی تعینات کرنے کا مقصد ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنا تھا لیکن اس کے باوجود احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ان کی قیادت سورہ کا غریب اور متوسط طبقہ کر رہا ہے۔ نو اگست کو اسی علاقے میں اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا، جس میں کم از کم پندرہ ہزار افراد شریک تھے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا تھا۔

ایک جھیل کے کنارے واقع سورہ کی بستی میں دو ہزار سے زیادہ گھر ہیں اور انہیں تین اطراف سے سکیورٹی فورسز نے گھیر رکھا ہے جبکہ وہاں کی مشہور 'جناب صاحب مسجد‘ مظاہرین کا مرکزی مقام بن چکی ہے۔ اس علاقے کی تنگ گلیوں میں روزانہ رات کو مظاہرین مشعلیں ہاتھوں میں پکڑے مارچ کرتے ہیں جبکہ جگہ جگہ 'کشمیر کی آزادی‘ اور 'گو انڈیا، گو بیک‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔

مرکزی شاہراہ کے رہائشی جونہی پولیس کی کوئی سرگرمی دیکھتے ہیں، وہ سورہ کے رہائشیوں کو مطلع کر دیتے ہیں۔ پولیس علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرون اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتی ہے جبکہ اس علاقے میں داخل ہونے کی بھارتی فورسز کی تین کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ مقامی نوجوان پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں جبکہ چند لوگ تو کلہاڑیوں تک سے مسلح ہوتے ہیں۔

سورہ کے مقامی رہائشی پولیس کے تمام حربوں سے واقف ہیں۔ فورسز کی طرف سے آنسو گیس اور مرچوں والے سپرے کے استعمال کے بعد مظاہرین نمک والے پانی سے ہاتھ منہ دھوتے ہیں، نوجوانوں نے پیلٹ گنوں سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور حفاظتی عینکیں بھی پہن رکھی ہوتی ہیں۔ ابھی تک اس علاقے سے تین نوجوان باہر نکلے تھے اور سکیورٹی فورسز نے ان تینوں کو ہی گرفتار کر لیا تھا۔

ایک مقامی خاتون ناہیدہ کا کہنا تھا، ''وہ (بھارت) ہمیں آخری حدوں تک آزمانا چاہتے ہیں لیکن وہ یقینی طور پر ناکام ہوں گے۔‘‘ ناہیدہ کا مزید کہنا تھا، ''ہم نے آخری مرتبہ بھی انہیں شکست دی تھی۔ اگر یہ صورتحال برسوں تک بھی جاری رہتی ہے، تو بھی ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘‘

سورہ کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی جائے پیدائش بھی ہے، جنہوں نے ریاستی خود مختاری کے حقوق کی ضمانت دیے جانے پر بھارت کے ساتھ الحاق پر اتفاق کیا تھا۔ شیخ عبداللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ اور پوتے عمر عبداللہ بھی جموں کشمیر کے وزرائے اعلیٰ رہ چکے ہیں لیکن چند ہفتے قبل انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

حالیہ چند برسوں میں سورہ کے کشمیریوں کے بھارت مخالف جذبات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سن دو ہزار سولہ میں کشمیری عسکریت پسندوں کے مشہور کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سورہ کے رہائشیوں کی حکومتی فورسز سے درجنوں مرتبہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

سورہ کے رہائشی رفیق منصور شاہ کے مطابق وہاں کے مقامی لوگ کئی عشروں کے بعد بھی شیخ عبداللہ کے بھارت کے ساتھ معاہدہ کر لینے کے فیصلے کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بھارت کی طرف سے جموں کمشیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت کے دیگر خطوں سے بھی لوگ وہاں ملازمت کے لیے جا سکتے ہیں اور وہاں زمینیں وغیرہ بھی خرید سکتے ہیں۔ لیکن منصور شاہ کی طرح  سورہ کے زیادہ تر رہائشیوں کے خیال میں یہ 'ان کی زمین پر قبضہ کرنے کا مذموم طریقہ‘ ہے۔

رفیق منصور شاہ کہتے ہیں، ''عبداللہ خاندان کی اقتدار کی لالچ کی وجہ سے ہم بھارت کے غلام بن چکے ہیں۔ ہم اس تاریخی غلطی کو اب درست کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہم رہنمائی اور باقی کشمیر پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں ہیں۔‘‘

ا ا / م م (اے ایف پی)