’بھارتی حکام کے ساتھ مکالمت خوشگوار ماحول میں ہوئی‘ | حالات حاضرہ | DW | 14.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’بھارتی حکام کے ساتھ مکالمت خوشگوار ماحول میں ہوئی‘

پاکستانی اور بھارتی حکام نے جمعرات کو اٹاری کے مقام پر ملاقات کی، جس ميں کشیدگی میں کمی، کرتارپور راہداری کو کھولنے اور بھارتی سکھ زائرین کے لیے پاکستان میں ویزا فری داخلے کی سہولت سے متعلق مذاکرات کیے گئے۔

پاکستانی اور بھارتی حکام نے جمعرات کو آپس میں ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین موجودہ کشیدگی میں کمی، کرتارپور راہداری کو کھولنے اور بھارتی سکھ زائرین کے لیے پاکستان میں ویزا فری داخلے کی سہولت سے متعلق مذاکرات کیے گئے۔ یہ مذاکرات واہگہ بارڈر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی ضلع امرتسر میں اٹاری کے مقام پر ہوئے۔ اس بات چیت میں شرکت کے بعد جمعرات کی سہ پہر واپس پاکستان پہنچنے پر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے واہگہ پر ہی صحافیوں کو بتایا کہ یہ مکالمت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے کوئی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس مکالمت کا اگلا دور دو اپریل کو ہو گا۔ پلوامہ میں حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین یہ مذاکرات پہلا سفارتی رابطہ تھے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین اس راہداری کے کھولے جانے کے حوالے سے ملاقات پہلے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونا تھی۔ اس ملاقات کا وقت اور تاریخ تو تبدیل نہیں کیے گئے مگر جگہ تبدیل کر دی گئی تھی۔ یہ مذاکراتی ملاقات بھارتی صوبے پنجاب کے ضلع امرتسر میں اٹاری کے مقام پر ہوئی، جو پاکستان کے ساتھ واہگہ بارڈر سے صرف تین کلومیٹر دور ہے۔ جگہ کی اس تبدیلی کی تجویز بھارت نے دی تھی۔

سینئیر پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار محمد عثمان نے اس بارے میں بدھ کے روز ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کرتارپور راہداری مذاکرات کے اسی ہفتے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، ’’دونوں ہمسایہ ریاستوں کے مابین قیام امن کے لیے یہ راہداری کھولنے کا اعلان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا ایک قابل ستائش اقدام تھا۔ عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور اپنے دوست نوجوت سنگھ سدھو کو بھی مدعو کیا تھا۔ اسی موقع پر پاکستانی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سدھو کے کان میں کرتارپور کوریڈور کھولنے کی بات کی تھی۔‘‘

محمد عثمان کے مطابق، ’’یہ کہنا یقیناﹰ غلط نہیں ہو گا کہ اس راہداری کو کھولنے کا فیصلہ پاکستانی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایک بڑا قدم اور بھارت کے لیے واضح پیغام تھا کہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات اور امن کا خواہش مند ہے۔‘‘

بھارتی دارالحکومت میں مقیم صحافی اور سفارتی نامہ نگار سدھانت سِبل نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا، ’’یہ بات چیت 14 مارچ کو صبح دس بجے شروع ہو گی۔ بھارت کی طرف سے اس میں داخلہ اور خارجہ امور کی وفاقی وزارتوں کے اہلکار شرکت کریں گے۔ تاریخی حوالے سے بھارت اس راہداری کے کھولے جانے کا پاکستان سے گزشتہ تین عشروں سے مطالبہ کر رہا تھا۔ یہ تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دورہ لاہور کے دوران بھی ایک موضوع تھا۔‘‘

سدھانت سِبل کے بقول، ’’بھارتی سکھ برادری کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور حساس مذہبی معاملہ اس لیے ہے کہ سکھ مذہب کے بانی گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال اس علاقے کے ایک گردوارے میں گزرے تھے، جو سکھوں کے لیے ایک بہت مقدس مقام ہے۔‘‘

اسی گردوارے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی صحافی محمد عثمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اب تک بھارتی علاقے سے سکھ یاتری پاکستانی علاقے میں اس گردوارے کو دوربینوں سے ہی دیکھتے تھے۔ جلد ہی وہ پاکستان آ کر وہاں ذاتی طور پر جا بھی سکیں گے، اس پر سبھی سکھ بہت خوش ہیں۔‘‘

بھارت اور دنیا بھر سے ہر سال ہزارہا سکھ یاتری ہر سال پاکستان آ کر اپنے مقدس مذہبی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان  سکھ یاتریوں کا پاکستان آنا ممکن ہے یہ جان کر گرونانک کے یاتری بے حدخوش ہیں۔ ہر سال لاکھوں سکھ یاتری پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ ان کی آمد پاکستانی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، جس میں کرتارپور کوریڈور کھلنے کے بعد مزید اضافہ ہو سکے گا۔

DW.COM