بھارتی ’ایلوس پریسلے‘، شمی کپور انتقال کرگئے | فن و ثقافت | DW | 14.08.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی ’ایلوس پریسلے‘، شمی کپور انتقال کرگئے

60 برس قبل اپنے رقص اور اداکاری کے بل بوتے پر شمی کپور نے بھارتی فلموں کو ایک نئی جہت اور انداز عطا کیا۔ یہ انداز آج بھی قائم ہے مگر شمی کپور اب ہم میں نہیں رہے۔

شمی کپور

شمی کپور

شمی کپور اتوار کی صبح پانچ بجے 79 برس کی عمر میں ممبئی کے بريچ کینڈی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ شمی کپور کے گردے خراب ہو گئے تھے اور وہ گزشتہ کئی برس سے ڈائیلیسز پر تھے۔ اسی بناء پر انہیں سات اگست کو ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔ خراب طبی حالت کے باعث انہیں مصنوعی تنفس پر رکھا گیا تھا۔

21 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے شمی کپور جن کا پورا نام شمشیر راج کپور تھا، بھارتی فلم ایکٹر پرتھوی راج کپور کے بیٹے جبکہ معروف اداکار راج کپور اور ششی کپور کے بھائی تھے۔ انہوں نے 1955ء میں گیتا بالی سے شادی کی، جن سے ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ گیتا بالی 1965ء میں انتقال کر گئیں۔ جس کے تین برس بعد انہوں نے بھارتی اشرافیہ کی ایک خاتون نیلا دیوی گوہِل سے شادی کی۔

شمی کپور کا فلمی سفر

1951ء میں شمی کپور نے جب اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تو اس وقت بھارتی فلمی صنعت پر ان کے بھائی راج کپور اور دیو آنند جیسے بڑے اداکاروں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ تاہم ان کے شوخ وچنچل اسٹائل پر مبنی فلموں کی بدولت، جن میں جنگلی، کشمیر کی کلی اور ’این ایوننگ اِن پیرس‘ شامل ہے۔ وہ بہت جلد بھارتی فلمی صنعت میں اپنی ایک علیحدہ پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

شمی کپور نے انٹرنیٹ يوزرز کمیونٹی آف انڈیا قائم کی اور اس کے بانی چیئرمین رہے

شمی کپور نے انٹرنیٹ يوزرز کمیونٹی آف انڈیا قائم کی اور اس کے بانی چیئرمین رہے

1951 سے لے کر 1970ء کی دہائی کے آخر تک کے ان کے فلمی سفر میں 50 سے زیادہ فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ ان فلموں میں انہوں نے بہت زیادہ ہنستے مسکراتے ، رقص کرتے، گنگناتے اور جذباتیت کا طوفان اٹھاتے کردار ادا کیے۔ کبھی وہ پرنس بنے تو کبھی راج کمار۔ کبھی وہ جنگلی بنے تو کبھی ہیرو، وہ بلف ماسٹر بھی کہلائے، مجرم اور ڈاکو بھی۔ کشمیر کی کلی میں شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ان کا رومانی کردار کشمیر اور فلم بینوں کے لئے ایک نہ بھولنے والی سوغات بنا۔ لوگوں نے اسی فلم کے ذریعے پہلی بار دنیا کی جنت یعنی کشمیر کے نظارے پردہ سیمیں پر دیکھے اور پھر اس کے بعد تو ہندی فلموں کے لئے کشمیر محبت کی وادی کے طور پر مشہور ہو گیا۔

شمی کپور نے 1974ء میں ایک فلم ’منورنجن‘ کی ہدایات بھی دیں تاہم یہ فلم کچھ زیادہ کامیابی حاصل نہ کر پائی جس کے بعد شمی کپور نے بھی اس شعبے میں مزید کچھ نہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔

انٹرنیٹ سے دوستی


عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ شمی کپور کا فلموں میں عمل دخل تو کم ہوتا گیا مگر انہوں نے نئے دور کی ٹیکنالوجی یعنی انٹرنیٹ سے دوستی کرلی۔ شمی کپور نے انٹرنیٹ يوزرز کمیونٹی آف انڈیا قائم کی اور اس کے بانی چیئرمین رہے۔ وہ فیس بک اور ٹویٹر پیج بھی چلاتے تھے جبکہ انہوں نے اپنے معروف خاندان کے بارے میں ایک ویب سائٹ جنگلی ڈاٹ او آر جی ڈاٹ آئی این بھی بنا رکھی ہے۔

کپور خاندان کی جس چوتھی نسل کو آج رنبیر اور کرینہ کے طور پر شہرت مل رہی ہے ، اسے یہاں تک پہنچانے میں شمی کپور کا بڑا کردار رہا ہے۔ ہندی فلموں پر بڑے بھائی راج کپور کی کامیابیوں کے دور میں بھی اپنی کامیابی کا راستہ بنا لیا۔ بھارتی فلمی صنعت کو دیے گئے ان کے انوکھے انداز کی بدولت وہ بالی وڈ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔


رپورٹ : افسر اعوان
ادارت: ندیم گِل

DW.COM

اشتہار