بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ، آئی ایس پی آر کی تردید | حالات حاضرہ | DW | 21.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ، آئی ایس پی آر کی تردید

بھارتی فوج کے سربراہ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھاری فائر کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں 'دہشت گردی کے کیمپ‘ تباہ کر دیے ہیں۔ پاکستانی فوج نے اس کی تردید کی ہے۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت نے اتوار 20 اکتوبر کو نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے 'بلا اشتعال فائرنگ‘ کے نتیجے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں دو بھارتی فوجی اور ایک عام شہری مار ا گیا۔ جنرل راوت کے مطابق ان کے فوجیوں نے بھاری توپخانے سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار 'دہشت گردی کے کیمپوں‘ کو نشانہ بنایا۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ملکی فوجی سربراہ نے صحافیوں کے بتایا، ''ہمارے پاس ان کیمپوں کے بارے میں قطعی معلومات اور کورآڈینیٹس موجود ہیں اور ہماری فورسز کی جوابی کارروائی میں ہم نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘‘

جنرل بپن راوت کا مزید کہنا تھا کہ شیلنگ کے بعد سے بھارتی فورسز نے پاکستانی جانب سے 'کوئی بھی موبائل رابطہ کاری نہیں سنی‘ جس کا مطلب ہے کہ ''وہاں ہلاکتیں اور نقصان ہوا ہے جسے پاکستانی فوج چھپانا چاہتی ہے‘‘۔

بھارتی فوجی سربراہ کا دعویٰ مایوس کن ہے، پاکستانی فوج

پاکستانی فوج نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے 'مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ''بھارتی فوج کے سربراہ کی طرف سے اے جے کے میں تین مبینہ کیمپوں کی تباہی کا دعویٰ مایوس کن ہے کیونکہ ان کے پاس ایک انتہائی ذمہ دارانہ عہدہ ہے۔ ان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ تو درکنار وہاں ایسا کوئی کیمپ ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود بھارتی ایمبیسی کا خیر مقدم کیا جائے گا اگر وہ کسی غیر ملکی سفارت کار یا میڈیا کے ذریعے زمین پر اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہے۔‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئیٹ میں مزید کہا گیا ہے، ''بھارتی فوجی لیڈر شپ کی طرف سے خاص طور پر پلوامہ حملے کے بعد، کیے جانے والے غلط دعوے علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بھارتی فوج کے ایسے دعوے داخلی فوائد حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پیشہ ورانہ فوجی اخلاقیات کے خلاف ہے۔‘‘

دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 ہلاکتیں

دوسری طرف کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری میں فوجیوں سمیت کم از کم دس لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی حکام نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں دو فوجیوں سمیت تین افراد مارے گئے تھے۔ دوسری طرف اسلام آباد نے بھارتی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں چھ عام شہری مارے گئے جبکہ ایک پاکستانی فوجی بھی اس فائرنگ سے مارا گیا۔

تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی طرف سے جاری ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی جوابی کارروائی سے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی فوج زخمیوں اور مرنے والوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے سفید جھنڈے بلند کر رہی ہے۔

ا ب ا / ع ا (اے ایف پی، پی ٹی آئی)

DW.COM