بھارت:کورونا سے بچ گئے تو’بلیک فنگس‘ کا خطرہ | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت:کورونا سے بچ گئے تو’بلیک فنگس‘ کا خطرہ

بھارت میں کورونا وائرس سے جنگ میں کامیاب ہوجانے والے افراد کواب 'بلیک فنگس‘ نامی ایک نئے دشمن  سے خطرہ ہے۔ یہ بیماری لوگوں کی بینائی کو متاثر کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں ایسے افراد بلیک فنگس یعنی میوکر مائیکوسس نامی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں، جوکورونا سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے تھے۔ اس بیماری کی وجہ سے لوگوں کی بینائی ختم ہوتی جارہی ہے اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں، جس کے سبب ان کی موت ہو جاتی ہے۔

گجرات، مہاراشٹر، بنگلور، حیدرآباد، پونے اور دہلی میں بلیک فنگس کے سینکڑوں متاثرین کا علاج چل رہا ہے اور ان میں متعدد افراد کی جان بچانے کے لیے ان کی آنکھ نکال دی گئی جبکہ بعض لوگوں کے جبڑے نکالنے پڑے۔

کیا ہے بلیک فنگس؟

بلیک فنگس کا طبی نام میوکر مائیکوسس ہے۔ یہ کوئی متعدی بیماری نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے۔

Indien Corona-Pandemie | Arzt Rohan Aggarwal in New Delhi

اگر ابتدائی دور میں ہی اینٹی فنگل تھیریپی شروع کردی جائے تو مریض کی جان بچ سکتی ہے۔

دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم سی شرما کے مطابق کورونا  کا علاج کرانے کے بعد صحت یاب ہوجانے والے مریضوں پر بلیک فنگس کا حملہ اس لیے زیادہ ہورہا ہے کیونکہ کورونا کے مریضوں کو آئی سی یو میں طویل عرصے تک علاج کے دوران Anti Fungal دوائیں دی جاتی ہیں جس سے ان کی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے،''جب پھپھوند (فنگس) ان پر حملہ آور ہوتا ہے تو اسے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر شرما کا تاہم کہناتھاکہ جن لوگوں نے گھر پر رہ کر کورونا کو شکست دی ہے ان میں بلیک فنگس کا خطرہ شاذ و نادر ہی ہوسکتا ہے اور اگر ایسا کوئی کیس ہو تواسے ڈاکٹروں کے سامنے ضرور لانا چاہیے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے علاج کے دوران اسٹروئیڈ کے استعمال اور مریضوں میں ذیابیطس کی شکایت بھی بلیک فنگس کا شکار ہونے کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔

Billig-Prothesen geben Patienten ein neues Gesicht

بلیک فنگس کے متاثرین کی جان بچانے کے لیے آنکھ نکال دی گئی جبکہ بعض لوگوں کے جبڑے نکالنے پڑے۔

بلیک فنگس سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں ای این ٹی شعبے کے سرجن ڈاکٹر منیش منجال کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی کورونا کے دوران بلیک فنگس کے کیسز سامنے آئے تھے۔ کئی لوگوں کی موت ہوگئی تھی،کئی مریضوں کی بینائی چلی گئی تھی اور کچھ لوگوں کے ناک اور جبڑے کی ہڈیاں نکالنی پڑتی تھیں۔ لیکن اس سال بلیک فنگس کے متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

ڈاکٹر منجال کے بقول ” آنکھوں میں سوجن اور ناک میں سیاہ  پپڑی جیسی ابتدائی علامتیں دکھائی دینے کے بعد متاثرہ شخص کی فوراً بایوسپی کرانی چاہیے اور علاج شروع کرادینا چاہیے۔ بخار، کھانسی، سردرد، سانس لینے میں پریشانی، خون کی قے، دانتوں میں درد، سینے میں تکلیف بھی بلیک فنگس کی ابتدائی علامتیں ہیں۔

بلیک فنگس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟

یہ فنگس سانس کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں کو متاثرکرتی ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اس بیماری سے بچنے کے لیے ذیابیطس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ کووڈ انیس کے علاج کے بعد ہسپتال سے رخصت ہونے پر خون میں شکر کی مقدار مسلسل چیک کرتے رہنا چاہیے۔اسٹروئیڈ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے پر ہی کرنا چاہیے۔

ڈاکٹروں کے مطابق بلیک فنگس میں شرح اموات پچاس فیصد تک ہوتی ہے۔ مرض کی ابتدائی علامتیں نظر آنے کے بعد اگر ابتدائی دور میں ہی اینٹی فنگل تھیریپی شروع کردی جائے تو مریض کی جان بچ سکتی ہے۔

ڈاکٹرو ں کا کہنا ہے کہ کووڈ انیس کےمریضوں کو بچانے کے لیے اسٹروئیڈ کے استعمال سے یہ انفیکشن ہورہا ہے۔کووڈ انیس کی وجہ سے جب جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے تو جسم کو نقصان سے بچانے کے لیے اسٹروئیڈ دیا جاتا ہے لیکن اسٹروئیڈ قوت مدافعت کو کم کردیتے ہیں۔

بھارت سرکار کی ایڈوائزری

بھارت میں طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے ادارے انڈین کونسل آ ف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے ملک میں بلیک فنگس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے مدنظر ایڈوائزری بھی جاری کردی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر میوکرمائیکوسس کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو یہ ہلاکت خیز ثابت ہوسکتا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہوا میں موجود پھپھوند سانس کے راستے جسم میں پہنچتا ہے اوردھیر ے دھیرے پھیپھڑے کو متاثر کرنا شروع کردیتا ہے۔ لہذا کووڈ کا علاج کے بعد ہسپتال سے رخصت ملنے کے باوجود صحت اور بالخصوص سانس لینے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 

DW.COM