بھارت:ویکسین پلانٹ میں آتشزدگی،مجرمانہ پہلووں کی جانچ | حالات حاضرہ | DW | 22.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت:ویکسین پلانٹ میں آتشزدگی،مجرمانہ پہلووں کی جانچ

بھارت میں حکام کووڈ ویکسین تیار کرنے والی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ کے پلانٹ میں جمعرات کے روز آتشزدگی کے واقعے میں ممکنہ مجرمانہ پہلووں کی بھی جانچ کررہے ہیں۔

بھارت کے پونے شہر میں واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) کے پلانٹ میں آکسفورڈ۔ آسٹرا زینکا کی کوووڈ ویکسین 'کووی شیلڈ‘ تیارکی جارہی ہے۔ جمعرات کے روز اس میں آگ لگ جانے سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے اور کارخانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

مقامی پولیس نے آتشزدگی کے واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ دوسری طرف کووڈ ویکسین کے حوالے سے بھارت میں اس کمپنی کے اہم کردار کے مدنظر ریاستی اورمرکزی انٹلیجنس ایجنسیاں تمام پیش رفت پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ سبوتاژ کے پہلووں کی بھی جانچ کر رہی ہیں۔

ہر پہلو سے جانچ

پونے کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر کلیان ودھاتے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”ابتدائی طور پر آتشزدگی کے واقعے اور اس میں ہلاکتوں کے متعلق کیس درج کیا گیا ہے۔ اس کی جانچ کی جائے گی اور پتہ لگایا جائے گا کہ اس میں کسی طرح کی مجرمانہ غفلت تو نہیں ہوئی۔ تفتیشی ٹیموں کی انکوائری اور فارینزک نمونوں کی جانچ کے بعد اگر اس میں کسی طرح کے مجرمانہ لاپرواہی کا پتہ چلتا ہے تو اسی کے مطابق کیس درج کیا جائے گا۔"

پونے کے پولیس کمشنر امیتابھ گپتا نے آتش زدگی کے اس واقعے میں کسی بھی ممکنہ سازش کی جانچ کا اشارہ دیتے ہوئے بتایا،” زاویے سے اس کی جانچ کی جائے گی۔ اس مرحلے پر ہم کسی بھی شک و شبہ کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں۔"

ذرائع کے مطابق ریاستی اور مرکزی انٹلیجنس ایجنسیوں کی ٹیمیں بھی پونے پہنچ گئی ہیں اور سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے کیمپس میں ہونے والی تمام پیش رفت پر باریکی سے نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا،”ملک میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے حوالے سے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی کافی اہمیت ہے اور یہ ملک کے حساس ترین اداروں میں سے ایک ہے۔"

Indien | Coronavirus | Adar Poonawalla , CEO Serum Institute Of India

ایس آئی آئی کے سی ای او ادار پونا والا

ایس آئی آئی کے سی ای او ادار پونا والا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ آتشزدگی کے واقعے سے صدمے میں ہیں۔ آگ لگنے سے بی سی جی، روٹا وائرس ویکسین اور متعدد دیگرمصنوعات تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آتشزدگی کا سبب معلوم نہیں اور ہم اس واقعہ میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

پونا والا نے ایک ٹوئٹ کرکے تمام حکومتوں اور عوام کو یقین دہانی کرائی کہ اس سانحہ کے باوجود 'کووی شیلڈ‘ ویکسین کا پروڈکشن متاثر نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح کے ہنگامی حالا ت سے نمٹنے کے لیے ایس آئی آئی میں پہلے سے ہی کئی عمارتیں ریزرو میں رکھی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس 28 نومبر کو اس عمارت کا دورہ کیا تھا۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی اودھو ٹھاکرے جمعہ کو ایس آئی آئی کا دورہ کرنے والے ہیں۔

’بیماری سے ڈریں، ٹیکے سے نہیں‘

بھارت کے ڈرگ ریگولیٹر نے کووڈ انیس کے لیے جن دو ویکسینز کو فی الحال'ہنگامی ضرورت‘ کے تحت منظوری دی ہے ان میں آکسفورڈ۔آسٹرا زینکا کی ایس آئی آئی میں تیار کی جانے والی ’کووی شیلڈ‘ ویکسین بھی ہے۔ دوسری ویکسین ’کوویکسین‘ بھارت بایو ٹیک کمپنی تیار کررہی ہے۔

ان دونوں ویکسین کی افادیت پر مختلف حلقوں سے اب بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دونوں دوا ساز کمپنیوں میں لفظی جنگ بھی ہوئی تاہم بعد میں مبینہ طور پر حکومت کے دباو میں دونوں کمپنیوں نے ویکسین کے متعلق ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ویکسین کی اہمیت اور ملک اور عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا ذکر کیا۔

بھارت میں گزشتہ سولہ جنوری سے ہی کووڈ انیس کی ویکسینیشن مہم شروع ہوچکی  ہے۔ بھارت نے 'ویکسین ڈپلومیسی‘ کے تحت اپنے پڑوسی ملکوں اور دوست ممالک کو بھی ویکسین بھیجنا شروع کردیا ہے۔ ان ملکوں کو بھی فی الحال ’کووی شیلڈ‘ ویکسین ہی بھیجی جارہی ہے۔

 ڈاکٹروں سمیت بیشتر افراد بھی 'کووی شیلڈ‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دہلی کے معروف سرکاری ہسپتال رام منوہر لوہیا ہاسپیٹل کے ریزیڈینٹ ڈاکٹروں کی تنظیم نے تحریری طورپر مطالبہ کیا کہ وہ صرف ’کووی شیلڈ‘ ویکسین ہی لگوائیں گے۔

لوگوں میں ویکسین کے تئیں اعتماد پیدا کرنے کے لیے حکومت نے جمعرات کو باضابطہ ایک مہم کا آغاز کیا۔ ٹیلی ویزن پر نشر اس پروگرام میں ہسپتالوں میں کئی معروف ڈاکٹروں کو ویکسین لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان کے پاس ایک پوسٹر بھی لگا ہوا تھا جس پر درج تھا ”بیماری سے ڈریں، ٹیکے سے نہیں۔"

DW.COM