بچپن کے کھیل | دستک | DW | 30.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

بچپن کے کھیل

حالات بدل گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہنی کیفیات بھی بدلتی گئیں اور ہم وقت کے کس دہانے پر آکھڑے ہوئے، پتا ہی نہیں چلا۔ ثناء بتول کا بلاگ

نانا کے گھر کے پیچھے ایک فارم تھا، تھوڑا اجڑا ہوا تھا لیکن درختوں کے تنے ابھی بھی اتنے مضبوط تھے کہ رسی باندھ کر جھولے ڈالے جاسکتے تھے۔ اس فارم کا کچھ علاقہ چٹیل تھا اور کچھ پر اونچے نیچے پتھروں کا انبار سا لگا رہتا تھا جس پہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم اور محلے کے چند دوست مل کر ٹیپو سلطان کھیلا کرتے تھے۔ غالباﹰ اس زمانے میں اس موضوع پر کوئی ڈرامہ سیریل بھی آتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جہاں کہیں میدان نظر آتا تھا، تو درختوں سے گری سوکھی ٹہنیاں تلواروں کی مانند ہاتھ میں پکڑے ہم سارا سارا دن جنگیں لڑا کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو انہیں لکڑیوں کو جلا کر ان پر کبھی چائے بناتے تو کبھی چاول جو کہ نانا کے کچن سے لائے جاتے تھے۔

دور حاضر سے اگر اپنے بچپن کا موازنہ کروں تو آج کل کی نسل کو نہ تو ان کھیلوں کے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ ہی ان قصوں کہانیوں سے کوئی شغف۔ دور حاضر کے بچے ایک ایسے جمود کا شکار ہیں جس کو توڑنے کے لیے برقی لہروں کو منقطع اور جسموں کو ٹیکنالوجی کی فولادی زنجیروں سے آزاد کرنا ہوگا۔ لیکن کیا یہ ٹیکنالوجی اور تعلیم و تربیت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم نہیں ہیں؟

1980ء کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد، جو اب 30 کے پھیرے میں ہیں، میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کھو کھو، مارم پٹی، چھپن چھپائی، ٹپ ٹاپ، پکڑم پکڑائی، اور ایسے تمام وہ کھیل جن کو کھیلتے ہوے ہم بڑے ہوئے ہیں، ان کھیلوں نے ہماری ذہنی نشونما پر ایک بہت مثبت اثر چھوڑا، جس کے باعث اُس دہائی میں پیدا ہونے والے زیادہ تر افراد سوشل اینزائٹی کا شکار کم نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کھیلوں میں جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ لوگوں سے میل جول بھی شامل تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ دور کے بچوں کے مشغلوں اور کھیلوں میں انفرادیت اور اینٹی سوشلزم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے معاشرتی اضطراب کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیے:

بچے پرتشدد کیوں ہو جاتے ہیں؟

چھوٹے بچوں کا ٹی وی دیکھنا کتنا خطرناک: اقوام متحدہ کی تنبیہ

ایک عام سا ہی مشاہدہ کریں تو 1990ء سے 2000ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ٹیکنالوجی سائیکل کے اندر پوری طرح غرق ہوتے نظر آتے ہیں لیکن ان ہی افراد میں سب سے زیادہ اینزائٹی بھی دیکھی جارہی ہے۔ ایک ٹین ایجر کے موبائل فون پہ ایک وقت میں کم سے کم چھ ویب پیجز کھلے ہوتے ہیں۔

پھر دوسری جانب نیشنل ہیلتھ سروے نے بھی ایک رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ذہنی اضطراب سے متعلق بیماری نے دنیا میں 2011 سے 2012 کہ دوران 3.8 فیصد اور 2014ء سے 2015ءکے درمیان 11.2 فیصد دنیا کی آبادی کو معاشرتی اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ بچوں کا سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے جو ان میں احساس کمتری، انسومنیا یعنی نیند کا کم ہوجانا اور اس سب کہ باعث آس پاس کہ لوگوں سے، جن میں گھر والے، رشتہ دار اور دیگر افراد شامل ہوتے ہیں،  جی اچاٹ ہوجانا ان بچوں کی فطرت میں شامل ہوتا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور معاشی چیلنجز اور تبدیلیوں کا سامنا جتنا آج کل کے بچوں کو ہے، ہمارے بچپن میں نہ تو اس کے بارے میں زیادہ ڈسکس کیا جاتا تھا اور نہ ہی ہمارا سامنا ٹیکنالوجی کے تابڑ توڑ حملوں سے رہا جس کی وجہ سے موجودہ نسل مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔

کھلے صحن اور ان میں کھیلنا، بھاگنا، دوڑنا ذہنی نشونما کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے، اس بات کا اندازہ تب ہوا جب ایک ماں ہونے کہ ناطے، دور حاضر کی معاشرتی، معاشی، اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی جنگ کے دوران بچوں کی پرورش کرنے کا خدا نے موقع دیا۔ اسکرین ٹائم پر کس طرح قابو پانا ہے، بچوں کو ٹیکنالوجی کی دوڑ سے دور بھی نہیں رکھنا اور بچانا بھی ہے، یہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔ خاص کر ان ماؤں کے لیے جن کا بچپن کھلے صحنوں میں، درختوں پہ جھولے جھولتے اور دادی اماں کی کہانیاں سنتے، موتیے اور گل مہر کے پھولوں کے ہار بناتے، گڈا گڑیا کی شادیاں رچاتے، رشتوں کو نبھاتے، دوستوں کے ساتھ محلے میں کھو کھو،  پہل دوج کھیلتے گزرا ہو۔

وہ زمانے بھی کیا تھے جب ہمیں نیٹ فلکس کے نئے سیزن اور فوڈ پانڈا کی ڈلیوری کا نہیں بلکہ سردیوں کی شاموں میں مونگ پھلی والے بابا جی اور آٹھ بجے این ٹی ایم پہ چاند گرہن کا انتظار ہوتا تھا۔ لیکن حالات بدل گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہنی کیفیات بھی بدلتی گئیں اور ہم وقت کے کس دہانے پر آکھڑے ہوئے، پتا ہی نہیں چلا۔