بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، پادری کا استعفے سے انکار | معاشرہ | DW | 05.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، پادری کا استعفے سے انکار

آسٹریلوی کارڈینل جورج پیل نے کہا ہے کہ وہ ویٹیکن کے خزانچی کے عہدے سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے اسکائی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

جورج پیل پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس سو ستر کی دہائی میں پادریوں کے ہاتھوں بچوں کی جنسی زیادتی کے معاملے پر بہتر کارروائی نہیں کی تھی۔ جمعے کے روز ویٹیکن میں پیل نے آسٹریلیا سے آئے جنسی زیادتی کا شکار افراد سے ملاقات کی تھی اور اعتراف کیا تھا کہ پادریوں سے غلطی ہوئی تھی۔

پیل نے چند روز قبل ایک آسٹریلین کمیشن کے سامنے پیشی بھی دی تھی، جس میں انہوں نے اس معاملے کو بہتر انداز میں حل نہ کرنے پر تاسف کا اظہار کیا تھا۔

اسکائی ٹی وی کو دیے گئے انٹریو میں چوہتر سالہ پیل نے کہا، ’’نہیں، میں عہدے سے استعفیٰ نہیں دوں گا۔ اس کو اعتراف جرم کے طور پر لیا جائے گا۔‘‘

''اگر پوپ فرانسس نے مجھے استعفیٰ دینے کے لیے کہا تو میں ان کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کروں گا، تاہم میں ان کے حکم کی پابندی کروں گا۔‘‘

روم میں پیل نے جنسی زیادتی کا شکار بننے والے افراد سے ملاقات کو ’’جذباتی‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والوں کے زخموں پر مرحم رکھا جا سکے۔ بعض افراد کی جانب سے خودکشی کے ارتکاب پر پیل نے دکھ کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انٹرویو کے دوران کارڈینل پیل نے کہا کہ آسٹریلوی کمیشن کی پیشی میں ان کے شریک نہ ہونے پر تنقید بے جا ہے کیوں کہ وہ دل کے عارضے کے سبب آسٹریلیا نہ جا سکے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ میلبورن اور بیلاراٹ، جہاں ستر کی دہائی میں جنسی زیادتی کے کیسز سامنے آئے تھے، میں لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے دکھوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

جمعے کے روز ویٹیکن نے ایک بیان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب پادریوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا تھا۔ ویٹیکن کا کہنا تھا کہ نہ صرف موجودہ پوپ فرانسس بلکہ ان کے پیش رو پوپ بینیڈکٹ نے بھی اس حوالے سے بھرپور اقدامات کیے تھے۔

واضح رہے کہ زیادتی کا شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ کلیسا نے معاملات کو دبانے کی کوشش کی، اور کلیسا نے بعض پادریوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار