بچوں کی گاڑی ’اسٹرولر‘ کا میوزیم | معاشرہ | DW | 05.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں کی گاڑی ’اسٹرولر‘ کا میوزیم

جرمن شہر زائٹز کے ایک کاریگر نے 1850ء میں بچوں کے لیے پہلی مرتبہ پہیوں والی ایک گاڑی بنائی تھی۔ جرمنی کے اسی شہر میں اسٹرولر یا بچوں کی گاڑی کا پہلا میوزیم بھی قائم ہے۔

آج کل رنگ برنگی اور مختلف ڈیزائنز کی اسٹرولرز یا چھوٹے بچوں کی گاڑیاں دستیاب ہیں۔ اس کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ 1853ء میں چارلس برٹن نامی ایک شخص نے لندن میں اسٹرولر کا پہلا ماڈل ’پیرمبولیٹر‘ کے نام سے پیش کیا۔ یہ ایک چار پہیوں والی چھوٹی سے گاڑی تھی اور اسٹریچر سے کافی مشابہت رکھتی تھی۔ تاہم شیر خواروں کے لیے یہ گاڑی بالکل بھی موزوں نہیں تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل جرمن شہر زائٹز میں ایرنسٹ البیرٹ نامی کاریگر کھینچنے والی ایک ایسی گاڑی بنا چکے تھے، جس کے ذریعے چھوٹے بچوں کو انتہائی آسانی کے ساتھ گھر سے باہر گھمایا پھرایا جا سکتا تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں البیرٹ کی یہ گاڑی مشہور ہوئی اور علاقے کے لوگوں نے ان سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ہی ’زائٹز‘ شہر جرمنی میں اسٹرولر کا ایک صنعتی مرکز بن گیا۔ ایک عرصے تک اسی شہر کے نام سے بنائی جانے والی اسٹرولرز کو پائیداری کی ایک نشانی سمجھا جاتا تھا۔

اس کے بعد اس شہر میں1930ء کی دہائی میں بچوں کی گاڑیوں کا ایک میوزیم بنانے کے منصوبے بنائے گئے اور کچھ حصہ تعمیر بھی کر دیا گیا۔ تاہم دوسری عالمی جنگ اور مشرقی جرمنی کے قیام کے بعد میوزیم کو توسیع دینے کے تمام منصوبے بھلا دیے گئے۔ 1970ء کی دہائی کے آخر میں اسٹرولر کی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ وقفے وقفے سے اسی طرح جاری رہا اور پھر 1984ء میں اسے ایک مستقل نمائش کا درجہ دے دیا گیا۔ 1996ء میں زائٹز میں اسے مزید توسیع دے دی گئی۔

اب اس میوزیم کو جدید بناتے ہوئے اور ڈجیٹلائز کرنے کے بعد چار سمتبر کو دوبارہ سے کھول دیا گیا ہے۔ اس میں خصوصی طور پر زائٹز کمپنی کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے اور اس میں 1926ء تک کی بنائے جانے والے ماڈلز کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔