بچوں سے جنسی زیادتیاں: ایک اختتام اور چھوٹا سا آغاز، تبصرہ | حالات حاضرہ | DW | 25.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بچوں سے جنسی زیادتیاں: ایک اختتام اور چھوٹا سا آغاز، تبصرہ

عالمی رائے عامہ کی نگاہیں روم میں ہونے والے اس اجلاس پر لگی تھیں، جس میں کیتھولک کلیسا کی اعلیٰ ترین قیادت شریک تھی اور جس میں نابالغ بچوں سے کی جانے والی جنسی زیادتیوں پر بحث کی جانا تھی۔ کرسٹوف شٹراک کا لکھا تبصرہ:

اس اجلاس کے اختتام پر پاپائے روم نے اپنا بہت اہم خطاب کیا، جس میں کلیسائی شخصیات کی طرف سے بچوں کے جنسی استحصال جیسے جرائم پر بات کی گئی، انٹرنیٹ کی ان ویب سائٹس کی بھی جو ایسے جرائم کی ترویج کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور جنسی مقاصد کے لیے سیاحت کے مسئلے کی بھی۔ لیکن اس خطاب کے حوالے سے ایک بات میرے لیے بنیادی طور پر بے چینی کا باعث بنی۔ اس خطاب کے لیے بہترین جگہ تو اقوام متحدہ کی سطح پر بچوں کے تحفظ کے لیے منعقد کی گئی کوئی عالمی کانفرنس بھی ہو سکتی تھی۔

اطالوی دارالحکومت روم میں واقع ویٹیکن سٹی میں، کیتھولک کلیسا کے دل میں، اسی کلیسا میں جس کی دنیا کے مختلف ممالک میں موجود شاخوں میں بچوں سے جنسی زیادتیاں کی جاتی رہی تھیں، جیسا کہ پوپ فرانس نے خود بھی کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ یہ زیادتیاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں، وہاں یہ تقریر مناسب تو تھی لیکن اس کے لیے منتخب کردہ جگہ شاید مناسب ترین نہیں تھی۔

Deutsche Welle Strack Christoph Portrait

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار کرسٹوف شٹراک

پوپ فرانسس نے اپنے خطاب میں کلیسائی شخصیات کی طرف سے ایسے جرائم کو ’بہت شدید نوعیت کے جرائم‘ قرار دیا، ان جرائم کی مرتکب کلیسائی شخصیات کو ’خونخوار بھیڑیوں‘ سے تعبیر کیا اور یہ بھی کہا کہ ایسا کرنے والے ’شیطان کے آلہء کار‘ ہیں۔

پوپ کے مطابق اس رجحان کے خلاف جنگ اور کیتھولک کلیسا کو اسے درپیش عالمگیر بحران سے نکالنے کی کوششوں میں وہ ’خدا کی مخلوق‘ پر انحصار کرنا چاہیں گے۔

’خدا کی مخلوق‘ سے پوپ کی مراد کلیسا کے باعقیدہ پیروکار تھے۔ پاپائے روم کے الفاظ میں، ’’خدا کی یہی مخلوق ہمیں اس کلیسائیت سے بچائے گی، جو کئی طرح کی خوفناک، مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے زرخیز زمین بن چکی ہے۔‘‘

متاثرین اجلاس سے باہر ہی رہے

یورپ، افریقہ، ایشیا، شمالی امریکا اور جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والے چند درجن ایسے افراد کے سوا، جو کلیسائی نمائندوں کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوئے تھے، ان جرائم سے متاثرہ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت کو روم میں ہونے والے اس اجلاس کے دروازوں سے باہر ہی رکھا گیا۔ ان مظلومین کو اجلاس میں شرکت کا موقع نہ ملا، سوائے پولینڈ سے آنے والے ایک وفد کے، جس کے اتنے تعلقات تو تھے کہ اسے پاپائے روم تک رسائی حاصل ہو گئی۔ اس وفد سے ملاقات کی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پاپائے روم نے پولستانی متاثرین میں سے ایک کا ہاتھ چوما۔ لیکن باقی سب تو ویٹیکن پہنچ ہی نہ سکے۔ ان کے لیے تاہم اس امر کی تصدیق ہو گئی تھی کہ ان کے خلاف جرائم سے متعلق ’دستاویزات تلف کر دی گئی تھیں اور مجرموں کے جرائم پر پردہ ڈال دیا گیا تھا‘۔

کم از کم جرمنی میں تو متاثرین کئی برسوں سے یہی کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ فائلیں اور دستاویزات کوئی بھی ہوں، وہ خود بخود تو تلف نہیں ہو جاتیں۔ کلیسائی شخصیات کی طرف سے جنسی استحصال کا شکار ہونے والے افراد پاپائے روم کی تقریر پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ اپنی تقریر شروع کرنے کے کئی منٹ بعد پوپ نے جنسی زیادتیوں کے واقعات کا ذکر کیا، تو اس کے بعد متاثرین کے لیے مالی تلافی یا ازالے کا تو کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔

زندگی بھر کے جھوٹ کا خاتمہ

روم میں ہونے والا یہ اجلاس چار روز تک جاری رہا، جو کئی لوگوں کے لیے مختلف حوالوں سے ایک تکلیف دہ عمل کا اختتام بھی تھا، خاص طور پر کلیسا کی طرف سے عمر بھر بولنے جانے والے جھوٹ کا اختتام۔ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کلیسائی شخصیات کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات صرف دنیا کے کسی ایک خاص خطے میں ہی دیکھنے میں آئے یا آتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو، جو اس سے محفوظ رہا ہو۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کلیسائے روم کی طرف سے ایسے واقعات کو چھپانے کی کوششیں بھی ایک باقاعدہ طریقہ کار بن چکی تھیں، ایک کے بعد ایک جرم۔ اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ کلیسا نے خود کو اکثر ایسا ثابت کیا کہ وہ طاقت کے غلط استعمال کا مرکز بن چکا تھا۔

نئے آغاز سے خوف

امید کی جاتی ہے کہ ویٹیکن سٹی میں جس عمل کے اختتام کا اشارہ دیا گیا ہے، وہ ایک نئی ابتدا کی وجہ بھی بنے گا۔ اس اجلاس کی کوئی قانون سازی جیسی حیثیت تو نہیں  تھی کہ جس میں کیے جانے والے فیصلوں پر عمل درآمد لازمی ہوتا، لیکن اجلاس کی کارروائی کے دوران پاپائے روم نے مشاورت کے نتیجے میں ایک ایسا پروگرام بہرحال پیش کیا، جو اکیس نکات پر مشتمل تھا۔ اب اس پروگرام پر عمل بھی کیا جائے گا، یہ امید ہی کی جا سکتی ہے اور اس اجلاس میں شریک ہر بشپ کو عملاﹰ خود کا اس کا پابند بھی محسوس کرنا ہو گا۔

کرسٹوف شٹراک / م م ، ع ا

DW.COM