بوہمرمان کی نظم، ’جرمن حکمران اتحاد منقسم‘ | حالات حاضرہ | DW | 16.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوہمرمان کی نظم، ’جرمن حکمران اتحاد منقسم‘

جرمن وزیر داخلہ نے میرکل کے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے، جس کے تحت ترک صدر کی ’توہین‘ کرنے پر ایک جرمن مزاح نگار کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت مل گئی ہے۔ چانسلر میرکل کے اس فیصلے پر حکمران اتحاد میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے کہا ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل کی طرف سے مزاح نگار ژاں بوہمرمان کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دینا درست قدم ہے۔

میزیئر نے ہفتے کے دن جرمن روزنامے ’بلڈ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت کے بجائے ملکی عدلیہ کو فیصلہ کرنا چاہیے۔

جرمن حکومت نے جمعے کے دن انقرہ حکومت کی اس درخواست کو منظور کر لیا تھا، جس کے تحت بوہمرمان کے خلاف قانونی کارروائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

بوہمرمان نے دو ہفتے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر ایک طنزیہ نظم نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کے ایک پروگرام میں پڑھی تھی، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ’توہین آمیز‘ تھی۔

جرمن آئین کے مطابق اگر کوئی شہری کسی بھی سربراہ حکومت و مملکت کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کرتا ہے تو اس کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے جرمن حکومت کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔

ترک حکومت کے مطالبے پر چانسلر میرکل کی حکومت نے بوہمرمان کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے تو دی ہے لیکن اب ان کی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کو تنقید کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔

جرمن عوام کا سوشل میڈیا پر کہنا ہے کہ اس طرح کی پیشرفت سے جرمنی میں آزادی اظہار اور صحافت پر قدغن لگے گی۔

جرمن مخلوظ حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے کئی سیاستدانوں نے بھی میرکل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بوہمرمان کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دینے پر جرمن حکمران اتحاد منقسم ہو چکا ہے۔

ایس پی ڈی کے پارلیمانی حزب کے سربراہ تھوماس اُپرمان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ’’میرے خیال میں یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کسی طنز پر قانونی کارروائی جدید جمہوری ریاستوں کو زیب نہیں دیتی ہے۔

تاہم سی ڈی یو کے جنرل سیکرٹری پیٹر ٹاؤبر نے میرکل کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا، ’’حکومت نے قانونی تقاضوں کو سنجیدگی سے لیا ہے، حتیٰ کہ اس سے کچھ لوگوں کو تکلیف بھی ہوئی ہے۔‘‘

ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر انصاف ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ بوہمرمان کی نظم طنزیہ تھی یا توہین آمیز، اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ یہ نظم کسی ادبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ طنز و مزاح پر مبنی زیڈ ڈی ایف کے ایک ٹی وی پروگرام میں نشر کی گئی تھی۔

وزیر انصاف ہائیکو ماس کے بقول آزاد عدالت ہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ اس نظم کے خالق بوہمرمان کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے یا نہیں۔

نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف نے کہا ہے کہ ترک صدر پر لکھی گئی بوہمرمان کی نظم دراصل جرمن قوانین کے مطابق غیرقانونی نہیں ہے۔ اس نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس نظم کا دفاع کرتا ہے۔ تاہم اس نے اس نظم کی ویڈیو کو اپنے آن لائن آرکائیو سسٹم سے ہٹا دیا ہے۔

DW.COM