بوکوحرام کے خود کش بمبار بچے | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوکوحرام کے خود کش بمبار بچے

دہشت گرد تنظیم بوکوحرام نے بچوں کو بطور خود کُش بمبار بنانے میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے بچوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے بہبودِ اطفال کے ادارے یونیسیف نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ سن 2014 کے مقابلے میں اب بوکوحرام نے خودکش حملوں کے لیے بچوں کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2014 میں ایسے صرف چار حملے کیے گئے تھے لیکن سن 2015 کے اختتام پر خود کش بمبار بچوں کے حملوں کی تعداد چوالیس تک پہنچ گئی تھی۔ ان بچوں کو نائجیریا، کیمرون، چاڈ اور نیجر کے ممالک میں خودکش حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ یہی چار ملک بوکوحرام کی بیخ کنی میں مصروف ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق نائجیریا میں جنم لینے والے انتہا پسند مسلم عقائد کے گروپ بوکو حرام کو کثیرالقومی عسکری کارروائیوں کا سامنا ہے اور مختلف ملکوں کے عسکری آپریشن نے بوکوحرام کی مجموعی قوت کو منتشر کرتے ہوئے انتہائی کمزور کر دیا ہے۔ اُس کے تمام اہم ٹھکانوں کو ملیامیٹ کر دیا گیا ہے۔ بعض حلقے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خوف و دہشت کی علامت سمجھی جانے والی یہ تنظیم اب آخری سانس لے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بوکوحرام نے اب اپنی شکست کا سارا نزلہ مغوی بنائے گئے لڑکے اور لڑکیوں کو تواتر سے خود کش بمبار بنانے پر اتارنا شروع کر دیا ہے۔

Nigeria Demonstration gegen die Entführung von Schulmädchen

نائجیریا میں گرل چائلڈ پروٹیکشن کی مہم بھی جاری ہے

بوکوحرام نے خود کش بمبار بچوں کو مساجد اور بھیڑ والی مارکیٹوں میں حملوں میں استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے کم سن بچوں میں نوعمر لڑکیاں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق بوکوحرام کے عسکریت پسندوں نے بےشمار کم سن لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کے بعد انہیں خود کش بمبار بنا کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت کر دیا۔ اب تک کیے جانے والے ایسے خود کش حملوں میں پچھتر فیصد کم سن لڑکیوں نے خود کش بمبار کا کردار ادا کیا ہے۔

نائجیریا کے سرحدی علاقے چیبوک سے ٹین ایجرز کو اغوا کیے جانے کے دو برس مکمل ہونے پر خود کش بمبار بچوں کے بارے میں رپورٹ کا اجراء ہوا ہے۔ ابھی بھی چیبوک سے اغوا کی گئی پونے تین سو سے زائد کم عمر لڑکیوں میں سے 219 لاپتہ لڑکیوں کا اتہ پتہ معلوم نہیں ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جنوری سن 2014 سے لے کر فروری سن 2016 تک اکیس بچوں کو کیمرون میں حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ نائجیریا میں بچوں سے سترہ خود کش حملے کرائے گئے اور دو حملے چاڈ میں ہوئے۔ ہر پانچویں خود کش بمبار بچے کی جنس لڑکی بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب شکست خوردہ بوکوحرام نے پرتشدد حملوں کی راہ چھوڑ کر اب خود کش حملوں پر زور دے رکھا ہے۔