بوٹسوانا میں 275 ہاتھیوں کی پراسرار ہلاکت | سائنس اور ماحول | DW | 03.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بوٹسوانا میں 275 ہاتھیوں کی پراسرار ہلاکت

افریقی ملک بوٹسوانا میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران کم از کم 275 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہاتھیوں کی ہلاکت رواں صدی میں ہاتھیوں کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

اس ملک کے محکمہ جنگلی حیات اور نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہوں نے تفتیش کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہاتھی کیسے ہلاک ہو گئے؟ یہ تمام ہاتھی افریقہ کے جنوب میں واقع اس ملک کے اوکاوانگو ڈیلٹا نامی علاقے میں مردہ پائے گئے۔

ان پراسرار ہلاکتوں کا جائزہ لینے اور اصل تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے سینکڑوں کارکنوں کو علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے۔ مختلف مردہ ہاتھیوں کے سیمپل حاصل کر لیے گئے ہیں۔ یہ سیمپل ساؤتھ افریقہ، زمبابوے اور کینیڈا روانہ کیے گئے ہیں تاکہ ہلاکت کی وجوہات تلاش کی جا سکیں۔

مقامی آبادیوں اور قبائل کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مردہ ہاتھیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور نہ ہی انہیں ہاتھ لگائیں۔ اس ملک میں ہاتھیوں کا غیرقانونی شکار ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن حکام کے مطابق یہ غیرقانونی شکار نہیں بلکہ اس مرتبہ ہلاکتوں کی وجہ کچھ اور ہے۔

نیشنل پارک کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہاتھیوں کی ہلاکت رواں صدی کا ہاتھیوں کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔ ان کے مطابق ان کا ملک سیاحت کی منزل تھا لیکن اب حالات بدل جائیں گے۔

بوٹسوانا کے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی وجہ کوڈ انیس بھی ہو سکتی ہے لیکن فی الحال انہیں زہر دے کر مارنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

ا ا / ش ح (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM