بوسنیا کی صدیوں پرانی مسجد عبادت کے لیے دوبارہ کھول دی گئی | معاشرہ | DW | 07.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بوسنیا کی صدیوں پرانی مسجد عبادت کے لیے دوبارہ کھول دی گئی

بوسینیا میں تئیس برس قبل تباہ کر دی جانے والی سولہویں صدی عسیوی کی ایک تاریخی مسجد کو تعمیر نو کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ فرہاد پاشا نامی اس مسجد کو عثمانی دور کے فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔

Bosnien Ferhadija Moschee

اس مسجد کی تعمیر نو کے لیے ان پتھروں اور ملبے کو بھی زیر استعمال لایا گیا، جو اس مسجد کی تباہی کے بعد مختلف مقامات پر پھینک دیے گئے تھے

خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ سات مئی بروز ہفتہ فرہاد پاشا نامی مسجد کا افتتاح ایک شاندار تقریب کی صورت میں کیا گیا۔ اس تقریب میں دس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

ترک وزیر اعظم احمد داؤد اولُو اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر بانیالُوکا گئے۔ اس تاریخی مسجد کی تعمیر نو کے لیے ترک حکومت نے مالی امداد بھی مہیا کی تھی۔

بوسنیا ہیرسے گووینا کی بوسنی سرب جمہوریہ کے مرکزی شہر بانیالُوکا میں قائم اس مسجد کو سرب نسل کے کرسچن آرتھوڈوکس مسیحیوں نے سات مئی سن 1993ء کو تباہ کر دیا تھا۔

کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بوسنیائی سرب عسکریت پسندوں نے اس مسجد کی مسماری کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ اس علاقے میں مسلمانوں کے تاریخی ورثے کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتے تھے۔ سن 1992 سے 1995ء تک کی جنگ کے دوران بوسنیا میں مجموعی طور پر 614 مساجد کو مسمار کیا گیا تھا۔

سن 2001ء میں جب اس مسجد کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع کرنے کی خاطر سنگ بنیاد رکھنے کی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی تو بوسنی سرب قوم پرستوں نے اس تقریب پر بھی حملہ کر دیا تھا۔ اس پرتشدد کارروائی کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی جبکہ ایک مسلمان ہلاک ہو گیا تھا۔

اسی لیے جب ہفتے کے دن اس مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تو سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی۔ حکام نے بتایا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر ایک ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ہفتے کے دن شہر کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا جبکہ الکوحل کے استعمال پر بھی پابندی عائد تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے البتہ ناقدین کے حوالے سے کہا ہے کہ اس تاریخی مسجد کی تعمیر نو اور اسے عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے سے واضح ہوتا ہے کہ بوسنیا میں مذہبی برداشت میں بہتری پیدا ہو گی۔ بوسنیائی جنگ کے بیس برس بعد بھی وہاں کے مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں میں عدم اعتماد اور عدم برداشت کا جذبہ نمایاں ہے۔

اس مسجد کی تعمیر نو کے لیے ان پتھروں اور ملبے کو بھی زیر استعمال لایا گیا، جو اس مسجد کی تباہی کے بعد مختلف مقامات پر پھینک دیے گئے تھے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس مسجد کے ملبے کو دریائے ورباس اور قریبی علاقوں میں پھینک دیا گیا تھا، جہاں سے انہیں ڈھونڈ کر دوبارہ اس مسجد کی نئے سرے سے تعمیر میں استعمال کیا گیا۔

Bosnien Eröffnung der Ferhadija Moschee

اس مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تو سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی

بانیالُوکا کے ایک چونسٹھ سالہ مسلمان رہائشی عیسیٰ نذیرووِچ نے اس مسجد کے دوبارہ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا، ’’میں بہت زیادہ جذباتی ہوں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ حالات کبھی بھی ویسے نہیں ہوں گے، جیسا کہ ماضی میں تھے۔ لیکن کم از کم یہاں کی مسلمان برادری کو اتنا احساس ضرور ہوا ہے کہ انہیں اس شہر میں دوبارہ خوش آمدید کہا گیا ہے۔‘‘

اسی طرح اٹھاون سالہ شہری Fejhila کا کہنا تھا، ’’مسجد تو دوبارہ تعمیر کر لی گئی ہے لیکن ہمارے بچوں کے پاس ملازمتوں کے مواقع نہیں ہیں۔‘‘ خانہ جنگی کے دور میں بھی اسی شہر میں موجود رہنے والے اس مسلمان شہری کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں پینشن بھی بہت کم دی جاتی ہے۔ ماضی میں ہم بہت بہتر حالات میں تھے۔‘‘