بوسنیا میں ہم جنس پسندوں کی پریڈ | معاشرہ | DW | 10.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بوسنیا میں ہم جنس پسندوں کی پریڈ

بوسنیا ہرزیگووینا کے دارالحکومت ساراژیوو میں پہلی بار ہم جنس پسندوں نے ایک بڑا مارچ کیا۔ یہ اس شہر میں LGBT برادری کی اس طرز کی پہلی پریڈ تھی۔

اس مارچ کا مقصد بوسنیا میں ہم جس پسندوں کو معاشرتی تفریق اور مسائل سے متعلق اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر پریڈ کے شرکاء کے تحفظ کے لیے گیارہ سو سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جب کہ شہر کے مرکز سے گزرنے والے اس مارچ کے راستوں کو مکمل طور پر سیل کیا گیا تھا۔

مرد جسم فروشوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے، ایمسٹرڈم میں مہم

جنسی رضا مندی: برلن میں مہاجرین کے لیے خصوصی کلاسیں

پولیس کے ترجمان مرزا ہادضیابدیچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس مارچ میں دو ہزار سے زائد افراد شریک تھے جب کہ اس موقع پر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ہم جنس پسند برادری کے اس مارچ میں شرکاء نے ڈیڑھ کلومیٹر کا راستہ طے کیا۔ یہ مارچ دوسری عالمی جنگ میں شہر کی آزادی کے یادگاری مقام سے شروع کیا گیا۔

اس مارچ میں متعدد مغربی ممالک بہ شمول برطانیہ، فرانس، اٹلی اور امریکا کے سفیر بھی شریک تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پر ہم جنس پسند برادری کے مخصوص قوسِ قزح کے رنگوں والے پرچم اٹھا رکھے تھے، جب کہ وہ ڈھول پیٹتے ہوئے نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس مارچ کا اختتام پارلیمان کی عمارت کے سامنے ہوا۔

انسانی حقوق کی کارکن لیلیٰ حریمویچ نے مارچ کے اختتام پر کہا کہ اس پریڈ کے ذریعے ہم جنس پسند برادری نے اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا، ''آج ہم بہت واضح انداز سے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں کی بہتری اور احترام کے لیے خوف اور تشدد کے خلاف پوری بہادری سے لڑیں گے۔‘‘

اس مارچ میں شریک ایک اور سماجی کارکن براکو کولبرک نے کہا، ''ہم ایک ایسے معاشرے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ہم مل کر ہم جنس پسندوں کے خلاف تشدد، نفرت، تنہائی اور خوف کا مقابلہ کریں۔

یہ بات اہم ہے کہ بلقان خطے میں ساراژیوو وہ آخری دارالحکومت تھا، جہاں ہم جنس پسندوں کا یہ مارچ ہوا۔ اس سے قبل اس خطے کے سبھی ممالک میں ہم جنس پسند ایسی پریڈز کر چکے ہیں۔

DW.COM