بورس جانسن آج برطانوی وزیر اعظم کا منصب سنبھال رہے ہیں | حالات حاضرہ | DW | 24.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بورس جانسن آج برطانوی وزیر اعظم کا منصب سنبھال رہے ہیں

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن آج ملکی وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو رہے ہیں۔ برطانیہ میں حکمران جماعت کا رہنما ہی حکومتی سربراہ بھی ہوتا ہے اور جانسن کو کل منگل کو پارٹی لیڈر منتخب کر لیا گیا تھا۔

لندن سے بدھ چوبیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق بورس جانسن مقامی وقت کے مطابق آج سہ پہر اس وقت سربراہ حکومت کے طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے، جب ان کی پیش رو خاتون وزیر اعظم مے اپنے اختیارات اپنے جانشین کے حوالے کر دیں گی۔

ٹریزا مے برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ اخراج کے بارے میں لندن کی برسلز کے ساتھ طے پانے والی ڈیل کو ملکی پارلیمان سے منظور کروانے میں ناکام رہی تھیں اور اپنی کوششوں کی اس کئی مرتبہ کی ناکامی کے بعد ہی انہوں نے چند ہفتے قبل حکمران ٹوری پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ کنزرویٹو پارٹی کو ٹریزا مے کے جانشین کا انتخاب کرنا تھا اور اسی شخصیت کو بعد میں نیا ملکی وزیر اعظم بھی بننا تھا۔

ٹوری پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کے ملک بھر میں ارکان پوسٹل بیلٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کریں گے کہ نیا پارٹی لیڈر کون ہو گا۔ اس کے لیے حتمی مقابلہ سابق وزیر خارجہ بورس جانسن اور موجودہ وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ کے درمیان تھا۔ پھر کل منگل تیئیس جولائی کی سہ پہر ٹوری پارٹی نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ بورس جانسن کو پارٹی ارکان نے اپنا نیا لیڈر اور یوں بالواسطہ طور پر نیا ملکی وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے۔

لندن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق موجودہ وزیر اعظم ٹریزا مے آج بدھ کو پہلے پارلیمان میں ایک بحث کے دوران سوالات کے جوابات دیں گی، جس کے بعد وہ لندن میں دس ڈاؤننگ سٹریٹ پر واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ایک حتمی تقریر بھی کریں گی۔ اس کے بعد ٹریزا مے برطانوی ملکہ الزبتھ سے ملاقات میں انہیں اطلاع دیں گی کہ وہ مستعفی ہو گئی ہیں۔

اس ملاقات کے بعد بورس جانسن ملکہ الزبتھ سے ایک علیحدہ ملاقات کریں گے، جس کے بعد وہ واپس آ کر دس ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر ایک تقریر کریں گے اور یوں نئے ملکی وزیر اعظم کے طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ امکان ہے کہ جانسن آج بدھ کی شام یا کل جمعرات سے اپنی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کرنا شروع کر دیں گے۔

بریگزٹ پلان

نئے برطانوی وزیر اعظم اپنا عہدہ سنبھالنے کے اگلے روز یعنی کل جمعرات کو ملکی پارلیمان سے اپنے ایک ممکنہ خطاب میں اس بارے میں تفصیلات پیش کریں گے کہ وہ بریگزٹ پلان پر کس طرح عمل کرنا چاہتے ہیں۔ بورس جانسن ماضی میں کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس سال اکتیس اکتوبر تک برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج پر حتمی عمل درآمد کو یقینی بنا لیں گے، چاہے اس کے لیے برطانیہ کو اس بلاک سے یورپی یونین کے ساتھ کسی باقاعدہ معاہدے کے بغیر ہی کیوں نہ نکلنا پڑے۔

اس سے قبل کل منگل کو ٹوری پارٹی کی قیادت قبول کرتے ہوئے اپنے خطاب میں جانسن نے کہا تھا کہ وہ برطانیہ کو سیاسی طور پر ایک بار پھر متحد کرنا چاہتے ہیں اور چاہے یونین کے ساتھ کوئی نئی یا پرانی ڈیل ہو یا نہ ہو، اس سال 31 اکتوبر تک بریگزٹ پر عمل درآمد ہو جائے گا۔

م م / ع ب / ڈی پی اے

DW.COM