بنگلہ دیش کے ماحولیاتی مہاجرین: وبا، بیروزگاری اور بحران | معاشرہ | DW | 10.10.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بنگلہ دیش کے ماحولیاتی مہاجرین: وبا، بیروزگاری اور بحران

بنگلہ دیش کے ہزاروں ملازمین کو کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے باعث بیروزگار ہونا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک کے بے شمار افراد کو شدید موسمی حالات کا بھی سامنا ہے، جن کی وجہ سے یہ سنگین خطرات کا شکار ہیں۔

بنگلہ دیش کو دنیا میں سب سے بڑا ایسا ملک قرار دیا جاتا ہے، جہاں سے کئی ممالک کو لیبر ورکرز ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔  بیرونی ممالک میں دو سال قبل کورونا وبا پھوٹنے سے پہلے ان کی تعداد سات لاکھ کے قریب تھی۔

کورونا وبا نے عالمی اقتصادیات پر گہرے اثرات مرتب کر رکھے ہیں۔ اقوام عالم کی معیشت کا پہیہ ابھی بھی سست رفتاری سے چل رہا ہے اور اس کی بحالی میں کچھ اور برس درکار ہیں۔ دوسری جانب ہزاروں بنگلہ دیشی ورکرز اس وقت بیروزگار ہو کر بیٹھے ہیں۔ انہیں وبا کے ساتھ ساتھ موسم کی سنگینی کا بھی سامنا ہے۔

Cox's Bazar, Bangladesh | Überschwemmungen im Kutapalong Flüchtlingslager

بنگلہ دیش میں شدید بارشوں نے معمول کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے

بلال حسین کی دکھ بھری داستان

جنوبی بنگلہ دیش کے ساحلی دلدلی علاقے کے قصبے گوری کھلی کے رہائشی بلال حسین اور ان کے خاندان کو اس وقت موسم کی سنگینی کے ساتھ ساتھ کورونا وبا نے شدید مشکلات کا شکار کر رکھا ہے۔ بلال حسین جیسے بہت سارے لوگوں کو مالی و معاشرتی بحرانی حالات کا سامنا ہے۔ بلال حسین نے سندربن کے جنگلات کو اس لیے خیرباد کہا کہ ان کے علاقے کو کمزور ایکو سسٹم اور منفی ماحولیاتی تبدیلیوں نے متاثر کر رکھا ہے۔

بنگلہ دیش: کیا روہنگیا پناہ گزینوں کو جبرا جزیرے پر منتقل کیا جا رہا ہے؟

اس دوران انہیں ملائیشیا میں نوکری ملی تو وہ وہاں چلے گئے لیکن کورونا وبا نے ان کی کمپنی کو گہرے مالی مسائل سے دوچار کر دیا۔ انجام کار انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور وہ رواں برس مارچ میں واپس وطن پہنچ گئے۔ وطن پہنچنے پر سمندری طوفان نے ان کی رہی سہی ہمت توڑ ڈالی اور ایک نئی معاشی پریشانی نے گھیر لیا۔

Bangladesch I Flut in Bogra Sariakandi

قدرتی آفات کی وجہ سے بنگلہ دیشی معاشرت کو گھمبیر مسائل کا سامنا ہے

ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی معاشی اثرات

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں قائم ایک تھنک ٹینک اووی باشی کارمی اُنیان پروگرام کے بانی شاکر الاسلام کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی مہاجرین کے مسائل بہت زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں کیونکہ انہیں نہ صرف اپنے علاقوں سے بیدخلی بلکہ وبا کی وجہ سے نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ شاکر الاسلام کے مطابق بعد میں سمندری طوفان اور سیلابوں نے ان کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے اور مجموعی طور پر ان کی پریشانیاں دگنا بلکہ چوگنا ہو چکی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں: بنگلہ دیش کے بڑھتے مسائل

بنگلہ دیش سینٹر برائے ایڈوانس اسٹڈیز کے سربراہ عتیق الرحمان کا کہنا ہے کہ ایسے پریشان حال افراد کے مسائل کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی، پھر وبا کے بحران کا سامنا اور اب بارشوں سیلابوں نے انہیں غربت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ عتیق الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ان پریشان حال افراد کی زندگیوں پر مزید ریسرچ کر کے اعداد و شمار جمع کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے تا کہ ان کے مسائل کی شدت کا مناسب احاطہ کیا جا سکے۔

Überschwemmung Bangladesch

سمندری طوفانوں کی وجہ سے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں کے مکینوں کو بے گھری کا سامنا ہے

گھمبیر صورت حال

امریکی جیوفزیکل یونین نے اندازہ لگایا ہے کہ بنگلہ دیش کو جس طرح سمندری طوفانوں کے ساتھ آنے والی بارشوں اور پھر سیلابوں کا سامنا ہے، اس سے سن 2050 تک اس ملک کے تیرہ لاکھ افراد کو بے گھری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کی ایک بڑی آبادی ساحلی پٹیوں کی مکین ہے اور ان افراد کا آخری سہارا سمندر برد ہونے والے علاقوں سے دوسرے مقامات کی جانب منتقل ہونا رہ گیا ہے۔

اب ساحلی پٹیوں سے بے گھر ہونے والے افراد کا ٹھکانہ بڑے شہروں کی کچی بستیاں بن کر رہ گئی ہیں کیونکہ انہیں بیروزگاری اور مناسب آمدنی کے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ وابستہ رہنے والے ایک ریسرچر تسنیم صدیقی کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں کے بے گھر افراد کی مالی و معاشرتی مشکلات کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اہم اختراعی اقدام وقت کی ضرورت ہیں اور ان کے ذریعے ہی مالی معاملات میں سدھار ممکن ہو گا۔

ع ح/ ا ا (تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن)