بنگلہ دیش: کورونا وائرس کے جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والا شخص گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 17.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: کورونا وائرس کے جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والا شخص گرفتار

بنگلہ دیش میں حکام نے کورونا وائرس کے ہزاروں جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ملزم دو اسپتالوں کے اس مالک کو گرفتار کرلیا ہے جو بھارت فرار ہونے کی کوشش میں تھا۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس حکام نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جو کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرکے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیا کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم ڈھاکہ میں دو اسپتالوں کے مالک ہیں اور وہ فرار ہو کر بھارت جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

سکیورٹی حکام نو دنوں کی زبردست کوشش اور تلاشی مہم کے بعد انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان پر الزام ہے کہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیے بغیر ہی وہ لوگوں کو کووڈ 19 سے نیگیٹیو ہونے کا جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرتے تھے تاکہ لوگ اس کی بنیاد پر آزادانہ گھوم سکیں یا پھر سفر پر جا سکیں۔

ریپڈ ایکشن بٹالین کے کرنل عاشق باللہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس بارے میں بتایا کہ، ''انہیں ایک سرحدی دریا کے کنارے سے گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے برقع پہن رکھا تھا۔''

گرفتار کیے گئے شخص کا نام شاہد بتایا جا رہا ہے جو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 'ریجینٹ گروپ' کے سربراہ اور دو ریجینٹ اسپتالوں کے مالک ہیں۔ ان کے دونوں اسپتالوں کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوئی تھی تاہم حکام نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر انہیں کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج اجازت دی تھی۔

شاہد کے اسپتال کا دعوی ہے کہ ان کے ہاں کورونا وائرس کے ساڑھے دس ہزار کیسز کے ٹیسٹ کیے گئے۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس میں سے صرف چار ہزار 200 ہی افراد کا حقیقت میں ٹیسٹ کیا گیا جبکہ باقی چھ ہزار 300 کے ٹیسٹ کیے بغیر ہی جعلی رپورٹ جاری کردی گئی۔ ان پر مبینہ طور اس طرح کے ٹیسٹ کے لیے افراد سے پیسہ لینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے حکومت سے کسی فیس کے بغیر اپنی خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کا جعلی ٹیسٹ خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا تھا اور اب تک اس سلسلے میں حکام نے ایک درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حال ہی میں ایک ڈاکٹر اور ان کے شوہر کو بھی ڈھاکہ کی ایک لیبارٹری میں کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ کے جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے الزام میں کرفتار کیا گیا تھا۔ 

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جعلی ٹیسٹنگ سرٹیفکیٹ سے سب سے زیادہ وہ بنگلہ دیشی مہاجر مزدور متاثر ہوں گے جو اکثر کام کاج کے لیے بیرونی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ بیرونی ممالک میں کام کرنے والے ایسے افراد بنگلہ دیش کو سالانہ تقریباً 19 ارب ڈالر کی رقم بھیجتے ہیں۔

حال ہی میں اٹلی نے اس وقت بنگلہ دیش سے فضائی سفر پر پابندی عائد کر دی تھی جب پتہ چلا تھا کہ کچھ بنگلہ دیشی شہریوں نے کورونا سے متعلق جعلی ٹیسٹ رپورٹ پیش کی ہے۔

تقریبا ًدو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد بنگلہ دیش نے مئی میں اپنی معیشت اور کاروبار کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے بجائے بتدریج اضافہ ہوتا رہا ہے۔  ملک میں اس وقت کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد تقریباً دو لاکھ ہے اور اب تک تقریبا ڈھائی ہزار افراد اس وبا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل میں متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ص ز / ج ا (اے ایف پی، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:40

کورونا وائرس کے خلاف کس ملک کی حکمت عملی ہو رہی ہے کامیاب؟

DW.COM