بنگلہ دیش میں مندروں کی توڑ پھوڑ پر بھارت کا اظہار تشویش | معاشرہ | DW | 15.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بنگلہ دیش میں مندروں کی توڑ پھوڑ پر بھارت کا اظہار تشویش

بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے تہوار کے دوران مسلمانوں کے مقدس کتاب قرآن کی مبینہ توہین کے واقعے پر کئی مندروں کی توڑ پھوڑ کی خبریں ہے۔ بھارت نے تشدد کے ان واقعات کو "تشویش کن" قرار دیا ہے۔

ہندووں کے مذہبی تہوار درگا پوجا یا دسہرہ کے دوران بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو مبینہ طور پر ایک مورتی پر رکھے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک کے مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ کئی مندروں کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں ہیں۔ تشدد پر قابو پانے کے لیے پولیس کی فائرنگ میں کم ا زکم چار افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔ ان میں 15پولیس اہلکار شامل ہیں۔

نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ نے پڑوسی ملک میں تشدد کے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تاہم حالات کوفوراً قابو میں کر لینے کے لیے ڈھاکہ حکومت کی تعریف بھی کی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارِندم باگچی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”ہم نے ناخوشگوار واقعات کی تشویش کن رپورٹیں دیکھی ہیں، جن میں بنگلہ دیش میں (ہندو) مذہبی تقریبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بنگلہ دیش حکومت نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کیے جن میں قانون نافذ کرنے والی مشنری کی فوراً تعیناتی شامل ہے۔"

ارِندم باگچی نے مزید کہا کہ ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن بنگلہ دیش کی حکومت اور مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش حکومت کی مختلف ایجنسیوں اور عوام کے ایک بڑے طبقے کے تعاون سے درگا پوجا کی تقریبات جاری رہیں گی۔"

معاملہ کیا تھا؟

بدھ کے روز ایک ویڈیو وائرل ہوگیا جس میں درگا پوجا کے ایک منڈپ میں دیگر ہندوں دیوی دیوتاوں کی مورتیوں کے درمیان موجود ہنومان دیوتا کے گھٹنے پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو رکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ملک کے کئی حصوں میں ہجوم نے توڑ پھوڑ کی۔ حاجی گنج میں مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی جس میں چار افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد دیگر زخمی ہو گئے۔ ان میں 15پولیس اہلکار اور کئی صحافی شامل ہیں۔

جمعرات کے روز بھی دو مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ ہجوم نے مندروں پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ تشدد کے الزام میں 40 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ

تشدد بھڑکانے والوں کو شیخ حسینہ کی وارننگ

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے مندروں پر حملے کرنے والوں کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مندروں اور درگا پوجا کے منڈپوں کو نشانہ بنانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یو این بی کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے ایک بیان میں کہا،”کیومیلا (میں تشدد کے) واقعات کی تفصیلی انکوائری کرائی جارہی ہے۔ کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ انہیں تلاش کیا جائے گا اور سخت سزا دی جائے گی۔" بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے ہندو برادری کو درگا پوجا کی مبارک باد بھی دی۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسدالزماں خان نے بھی کہا کہ کومیلا واقعے میں ملوث افراد کو تلاش کیا جائے گا۔”ہم اس واقعے میں ملوث تمام افراد کا پتہ لگائیں گے۔ ہم نے ان میں سے بعض کی نشاندہی کرلی ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔"

سکیورٹی کے زبردست انتظامات

تشدد کے ان واقعات کے پیش نظر درگا پوجا کے منڈپوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے 64 میں سے 22 اضلاع میں نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ مندروں پر حملے کے واقعات کے بعد ہندو اکثریتی شہر چاٹگام میں بھی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

 تقریباً 17کروڑ کی آبادی والے بنگلہ دیش میں ہندووں کی تعداد 10فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں فریق میں تنازعات کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض متنازعہ واقعات کے وائرل ہونے کے بعد حملو ں کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔

سن 2016 میں ایک فیس بک پوسٹ میں اسلام کے مقدس مقامات کی مبینہ توہین کرنے پر پانچ مندروں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

جاوید اختر (اے ایف پی کے ساتھ)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات