بنگلہ دیش میں مسافر بردار کشتی غرق، 21 ہلاکتیں | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں مسافر بردار کشتی غرق، 21 ہلاکتیں

بنگلہ دیش میں ایک مسافر بردار کشتی ایک کارگو کشتی سے ٹکرا کر غرق ہو گئیی اس واقعے میں چھ بچوں سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ درجنوں لاپتا ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق یہ واقعہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع ایک جھیل میں اس وقت پیش آیا، جب ریت سے لدی ایک کشتی ایک مسافر بردار کشتی سے ٹکرا گئیی حکام کا کہنا ہے کہ بیجوئے نگر حادثے کے وقت اس کشتی پر لگ بھگ ساٹھ افراد سوار تھےی  تاہم بعض مقامی میڈیا کے مطابق مسافروں کی تعداد تقریباً 100تھی۔

بنگلہ دیش: کشتی حادثے میں 26 افراد ہلاک

بنگلہ دیش: کشتی حادثے میں متعدد افراد ہلاک

مقامی انتظامی افسر حیات الدولہ خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا کہ مال بردار جہاز کی فولادی چونچ نے مسافر بردار کشتی کو بری طرح نقصان پہنچایا اور یہ کشتی تیزی سے ڈوب گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس جھیل سے مزید لاشیں نکالنے کے لیے ریسکیو سرگرمیاں جاری ہیں جب کہ ان امدادی سرگرمیوں میں مقامی افراد بھی پیش پیش ہیںی حکام کے مطابق اب تک چھ بچوں سمیت 21 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

پولیس کے مطابق ریسکیو کیے گئے سات افراد کو قریبی ہسپتال بھی منتقل کیا گیا ہےی اس حادثے میں زندہ بچ جانے والی اخی اختر نے بتایا، ''جب یہ حادثہ ہوا تو میں تیر کر کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، مگر میری باقی فیملی تاحال لاپتا ہے۔‘‘

مقامی حکام نے اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تفتیشی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔  بنگلہ دیش میں اس انداز کے حادثے ایک معمول ہیںی ابھی رواں برس اپریل ہی میں کشتیوں کو پیش آنے والے دو حادثوں میں 54 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 اہرین کے مطابق کشتیوں کی ناقص حالت، دیکھ بھال کے خراب معیارات اور سیفٹی کے معاملے میں قدرے سستی اس انداز کے حادثوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریت ڈھونے والی کشتیاں پانی کی سطح کے قریب ہوتی ہیں اور روشنی کم ہو تو ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتیں۔ گزشتہ برس جون میں دارالحکومت ڈھاکا میں ایک کشتی اس وقت ڈوب گئی تھی، جب ایک اور کشتی  اس سے پیچھے سے جا ٹکرائی تھی۔ اس واقعے میں بھی 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ع ت/ ج ا  (اے پی، اے ایف پی)