بنگلہ دیش میں عسکریت پسند گروپ کا سربراہ گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 10.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں عسکریت پسند گروپ کا سربراہ گرفتار

بنگلہ دیش کی ایلیٹ سکیورٹی فورس نے جمعرات کو ایک کلعدم انتہا پسند اسلامی گروپ کے سربراہ کو دو ملحد بلاگرز کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین RAB کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس ایلیٹ سکیورٹی فورس نے محمد ابوالبشر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ انصار اللہ بنگلہ ٹیم ABT کے سربراہ ہیں۔ اس انتہا پسند گروپ کو بنگلہ دیشی بلاگرز کے سلسلہ وار قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے ایک ترجمان مفتی محمود خان نے ایک بیان دیتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کو بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں اس گروپ کے مزید دو مشتبہ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ محمود خان کے بقول،’’ یہ گرفتاریاں بنگلہ دیشی بلاگر اوویجت رائے اور اننتا بیجوئے داس کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہیں‘‘۔

Symbolbild Bangladesch Verhaftung nach Ermordung von US-Blogger

رواں سال چار بلاگرز کا قتل ہوا

رواں برس کے آغاز سے اب تک جنوبی ایشیا کی مسلم اکثریتی آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں 4 بلاگرز کا قتل ہو چُکا ہے۔ بنگلہ دیش کے دار الحکومت میں ان انتہاپسندانہ کارروائیوں کے خلاف جہاں ملک کے سیکولر حلقوں کی طرف سے بڑے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ہوا وہاں عالمی سطح پر بھی بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور ڈھاکہ حکومت پر اس سلسلے میں کافی دباؤ بھی ڈالا گیا کہ وہ اپنے ہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر اقدامات کرے۔

انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے ترجمان مفتی محمود خان نے مزید بتایا کے محمد ابوالبشر نے ABT کی سربراہی اپنے بڑے بھائی اور اس گروپ کے بانی اور روحانی پیشوا کے انتقال کے بعد سنبھالی تھی۔ وہ 2013ء میں بھی بلاگر احمد راجب حیدر کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تھے۔

Bangladesch Proteste gegen den Mord an den Blogger Ananta Bijoy Das

بنگلہ دیش میں بلاگرز کے قتل پر احتجاج

خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین RAB نے ماضی میں بتایا تھا کہ کالعدم گروپ کے لیڈر جاشیم الدین رحمانی نے جیل سے اپنے حامیوں کو پیغام میں بلاگرز کے قتل کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو گرفتار ہونے والے دو دیگر انتہا پسندوں میں سے ایک کا نام جلہاس بسواس اور دوسرے کا جفران الحسن ہے۔ ان دونوں نے قاتلانہ مشن میں حصہ لیا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات