بنگلہ دیش میں سخت میڈیا قوانین کا نفاذ اور صحافیوں کا احتجاج | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں سخت میڈیا قوانین کا نفاذ اور صحافیوں کا احتجاج

بنگلہ دیشی صحافتی گروپوں نے ایک نئے قانونی بل کے خلاف طے کردہ مظاہرے فی الحال منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں میڈیا کے حوالے سے ایک نئے قانونی بل پر غور کے بعد ان مظاہروں کی کال دی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیش میں مختلف صحافتی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے اس قانونی بل پر غور کرنے پر مظاہروں کی کال دی تھی۔ صحافیوں کا خیال ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے حکومت ملک میں ’آزادیء اظہار رائے‘ اور ’آزادیء صحافت‘ پر قدغن عائد کرنا چاہتی ہے۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیش کش کے بعد صحافتی تنظیموں نے فی الحال یہ احتجاج منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی فوج داری عدالت نے روہنگیا معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں

بنگلہ دیشی خواتین کو سعودی عرب میں جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا

بنگلہ دیش میں یہ نیا قانون، اس وقت نافذ صحافی ضوابط کے ساتھ جوڑ کر لاگو کیے جانے کی تجویز ہے۔ بنگلہ دیش میں اس حوالے سے ایک تو نوآبادیاتی دور کا ایک قانون موجود ہے، جسے ’آفیشل سیکریٹس ایکٹ‘ یا ’سرکاری رازوں کا قانون‘ کہتے ہیں۔ حکومتی تجویز یہ تھی کہ اسی قانون میں کچھ نئی شقوں کا اضافہ کیا جائے۔ اس نئے قانون کو پارلیمان نے 19 ستمبر کو منظور کیا تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں فقط تین ماہ بعد عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جب کہ اس پارلیمان سے منظور کروائے جانے والے اس قانون پر اب فقط صدر عبدالحامد کے دستخط ہونا باقی ہیں، جس کے بعد یہ نافذ العمل ہو جائے گا۔

اس نئے قانون کے تحت ’جارحانہ یا خوف زدہ کر دینے والی رپورٹوں‘ پر کسی صحافی کو تین برس قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ’فرقہ واریت یا نسلی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے سے متعلق اطلاعات پر کسی شخص کو دس برس تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس قانون میں موجود ’مبہم زبان‘ اس کے نادرست استعمال کی موجب ہو گی۔ اس کے علاوہ ناقدین بتاتے ہیں کہ اس قانون کے تحت پولیس کو بغیرعدالتی احکامات کے کسی فرد کو ’شک کی بنیاد پر‘ حراست میں لینے یا تلاشی لینے جیسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

صحافتی گروپوں کی جانب سے اس قانون کے خلاف جمعرات اور ہفتے کے روز مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے صحافتی تنظیموں اور یونینز سے بات چیت کی پیش کش کر دی ہے، جس کے بعد ان مظاہروں کی کال واپس لے لی گئی ہے۔

ڈھاکا رپورٹرز یونیٹی نامی تنظیم کے صدر سیف الاسلام کے مطابق، ’’اگر ہم اپنے مطالبات بات چیت کے ذریعے طے کر لیتے ہیں، تو یہ زیادہ احسن اقدام ہو گا۔‘‘

حکومت کے ساتھ بات چیت میں صحافیوں کی یونینز کے علاوہ ایڈیٹرز کونسل آف بنگلہ دیش کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ یہ تنظیم بنگلہ دیش میں شائع ہونے والے اخبارات کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے۔

اس تنظیم کا کہنا ہے، ’’وزارت اطلاعات صحافی برادری کو درپیش خدشات سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ ملک میں معلومات کا آزادانہ بہاؤ قائم رہے۔‘‘

ع ت، ع ب (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM