بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر کیمپ پر قبضے کی جنگ | معاشرہ | DW | 31.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر کیمپ پر قبضے کی جنگ

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مہاجر بستی میں تشدد میں اضافہ اب حکومت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اس روہنگیا مہاجر کیمپ سے مار پیٹ کے علاوہ اب اغوا کے وارداتیں بھی رپورٹ ہونے لگی ہیں۔

جنوبی بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلم کمیونٹی کے لیے قائم کردہ عارضی مہاجر کیمپ جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے بدنام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کیمپ میں گنجائش سے زیادہ مہاجرین کی تعداد بھی ایک انتظامی مسئلہ ہے۔

اس کیمپ میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کے مابین ہونے والی پرتشدد لڑائیوں کی وجہ سے اب حکومت نے خصوصی اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعے کے دن ہی کوکس بازار میں واقع اس مہاجر کیمپ میں ایک پرتشدد واقعے میں چھ افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ایک گینگ نے اس کیمپ میں واقع ایک اسلامی سکول پر حملہ کیا اور تین اساتذہ کو چاقوؤں سے وار اور فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس واقعے میں دو رضا کار اور ایک طالب علم بھی مارا گیا۔

ستمبر میں اسی کیمپ میں روہنگیا مہاجر برادری کے ایک نمایاں رہنما محب اللہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اڑتالیس سالہ محب اللہ کو نامعلوم افراد نے ان کے دفتر میں گھس کر ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد اس مہاجر کیمپ میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کو ملکی سطح پر پہلی مرتبہ میڈیا کوریج ملی۔

سابق استاد محب اللہ ایسے افراد کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز تصور کیے جانے لگے تھے، جن کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ میانمار میں آباد روہنگیا کمیونٹی کو شہری حقوق حاصل نہیں ہیں جبکہ ان کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں ہے۔

اگست سن دو ہزار سترہ سے اب تک کوکس بازار میں واقع اس مہاجر کیمپ میں نواسی افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیشی سکیورٹی فورسز بھی اضافی طور پر ایک سو نو ایسے افراد کو ہلاک کر چکی ہیں، جو مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

انسانی حقوق کے کارکن نور خان کے مطابق کوکس بازار میں بنیادی طور پر منشیات کے کاروبار کے علاوہ انسانوں کی اسمگلنگ بھی ہو رہی ہے جبکہ اغوا کی وارداتیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔

کوکس بازار کے مہاجر کیمپ پر گہری نگاہ رکھنے والے نور خان کے مطابق اس کیمپ میں تین بڑے گروہ فعال ہیں، جو مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق یہ تینوں جرائم پیشہ گروہ دراصل اس مہاجر بستی کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ایسے مجرموں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

اس مہاجر بستی کی مخدوش صورتحال پر کچھ حلقے ایسے خدشات بھی ظاہر کر چکے ہیں کہ یہاں آباد لوگ دہشت گرد گروہوں کے جال میں پھنس کر دہشت گردی کا آلہ کار بن سکتے ہیں۔ جنوبی ایشائی امور کے ماہر مائیکل کوگل مین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلم مہاجرین کو سکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

کوگل مین کے مطابق افغان مہاجرین جب پاکستان آئے، تو ان پر بھی ایسے ہی الزامات لگائے گئے تھے۔ انہوں نے البتہ کہا کہ بنگلہ دیش میں موجود زیادہ تر روہنگیا مہاجرین اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کسی نظریاتی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

عرفات الاسلام (ع ب / م م)