بنگلہ دیش: مودی کے خلاف مظاہرے اور ہلاکتوں پر ’یوم دعا‘ | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: مودی کے خلاف مظاہرے اور ہلاکتوں پر ’یوم دعا‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والے مظاہرے اتوار کو بھی جاری رہے۔ اب تک پر تشدد واقعات میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والے پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ اتوار کو تیسرے روز  بھی جاری رہا اور پولیس کی فائرنگ میں مزید تین افراد ہلاک ہوگئے۔ سرکاری حکام کے مطابق اب تک 13 مظاہرین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

لیکن احتجاج کرنے والی تنظیموں کے مطابق ان کے اب تک 17 کار کن ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے 200 سے بھی زیادہ کارکنان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔   

بنگلہ دیش کی مقامی میڈیا کے مطابق حکام نے ان مظاہروں کے پیش نظر متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی تھیں، جس کے اثرات پیر 29 مارچ کے روز بھی دیکھنے کو ملے اور کئی متاثرہ علاقوں میں انٹر نیٹ پوری طرح سے دستیاب نہیں تھا۔ سوشل میڈیا فیس بک نے پہلے ہی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بنگلہ دیش میں اس کی سروسز کو محدود کر دیا گيا ہے۔ 

حکام کے مطابق اتوار کے روز مظاہرین نے پولیس مراکز، سرکاری املاک، حکمراں جماعت کے دفاتر اور ریل سروسز کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ  میں اس حوالے سے یہ خبر بھی شہ سرخیوں میں ہے کہ مظاہرین نے ایک مندر کے اندر بھی توڑ پھوڑ کی۔

مودی کی مخالفت کی وجہ؟

 بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے 26 مارچ جمعے کو ڈھاک‍ا پہنچے تھے اور ان کے اسی دورے کے خلاف بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ مظاہرین مودی کی مبینہ مسلم مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

پہلے روز مودی  کے خلاف مظاہرے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا اور چٹگاوں تک ہی محدود تھے تاہم اس کے دوران سکیورٹی فوسرز کی فائرنگ میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد غم و غصے کی لہر کے طور پر یہ مظاہرے ملک کے تقریبا تمام شہروں تک پھیل گئے اور دوسرے روز سنیچر کو بھی پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تیسرے دن اتوار کو بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے اور تین افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق تمام افراد سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مظاہروں کے دوران درجنوں افراد زخمی بھی  ہوئے ہیں۔ ملک میں اب حالات قابو میں تاہم کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔

مظاہرین کا موقف ہے کہ مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارت میں مبینہ طور پر مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اسی طرح سرحد پر بھارتی فورسز کی جانب سے بنگلہ دیش کے شہریوں کو بھی مارا جاتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ سرحد میں اسمگلنگ میں ملوث افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 مزید ریلیوں کا اعلان

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں مودی مخالف احتجاج کا سلسلہ ان کے دورے سے ایک ہفتے قبل ہی شروع ہو گيا تھا۔ بعض اسلام پسند تنظیموں اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے ان کی آمد سے پہلے اس کی ابتدا کر دی تھی۔ تاہم شیخ حسینہ کی حکومت کا کہنا تھا کہ اس نے مودی کی حفاظت کے لیے مکمل بندوبست کیے ہیں اور اس بارے میں فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یونیورسٹی کی بعض طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ مودی کے خلاف مظاہروں کی قیادت 'قومی مدرسہ' اور 'حفاظت اسلام' جیسی تنظیمیں کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں ہلاکتوں کے خلاف بطور احتجاج پیر 29 مارچ کو 'یوم دعا‘  اور 'سوگ‘ کے طور منا رہی ہیں اور دو اپریل جمعے کے روز مزید ریلیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:14

ڈھاکا میں مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مودی کے دعوے پر بھارت میں بھی نکتہ چینی

بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گيا اور جیل جانے کا موقع بھی آگیا تھا۔

 مودی کے اس دعوے پر بھارت میں شدید رد عمل ہوا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے نریندر مودی پر جھوٹا دعوی کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کی آزادی کا حامی تھا اس لیے اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا کوئی امکان تک نہیں ہے۔ 

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے زبردست بحث چھڑ گئی اور بہت سے بھارتی شہریوں نے مودی پر "صریحا جھوٹ بولنے" کا الزام عائد کیا۔ اکثر نے ان کے اس دعوے کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ " مودی نیلسن منڈیلا کے ساتھ  بھی جیل میں تھے۔"   

ویڈیو دیکھیے 04:05

لاکھوں مسلمان بھارتی شہریت سے محروم

DW.COM