بنگلہ دیشی حکومت بچیوں کو مفت سینیٹری پیڈز فراہم کرے گی | وجود زن | DW | 24.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

بنگلہ دیشی حکومت بچیوں کو مفت سینیٹری پیڈز فراہم کرے گی

بنگلہ دیش کے دیہاتوں میں بچیوں کو سینیٹری پیڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ حیض کے دوران اس عمل سے جڑی قدامت پسندانہ سوچ کے باعث اسکول سے چھٹی نہ کریں۔

168 ملین آبادی کے ملک بنگلہ دیش میں  حیض )ماہواری( یا پیریڈز سے جڑی شرمندگی کے باعث چالیس فیصد لڑکیاں حیض کے دوران اسکول نہیں جاتیں۔ اس جنوبی ایشائی ملک کے نائب وزیر اطلاعات مراد حسن نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،'' یہ رجحان بہت خطرناک ہے، ہم ان بچیوں کے مستقبل کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ مراد حسن کا کہنا ہے کہ سینیٹری پیڈز کے میسر نہ ہونے اور ان کے مہنگا ہونے سے دیہی علاقے کی بچیوں کو گھروں میں قید رکھنے کے برابر ہے۔‘‘ بنگلہ دیش میں قریب 63 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔

حسن مراد مزید کہتے ہیں،'' غریب والدین حیض کے دوران سینیٹری پیڈز خریدنے کے بجائے بچیوں کے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ بنگلہ دیشی حکومت اگلے سال ملک کے نوے ہزار دیہاتوں میں بچیوں کو سینیٹری پیڈز فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پہلے ہی پیڈز استعمال کرنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے ہوئے ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:50

ماہواری سے جڑی مشکلات کا حل، گرلی تھنگز

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے صرف چھ فیصد اسکولوں میں بچیوں کی صفائی اور صحت سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن مالیکا بانو کا کہنا ہے،'' ہم کافی عرصے سے حکومت کی جانب سے بچیوں کو یہ سہولت فراہم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ بہت مثبت قدم ہے۔ اب ایک ایسے موضوع پر بھی بات ہو رہی ہے جس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔‘‘ مالیکا کہتی ہیں کہ اس اقدام سے بچیاں اب باقاعدگی سے اسکول جا سکیں گی۔

ب ج، ع ق (نیوز ایجنسی)