بنگلہ دیش: معروف روہنگیا کارکن کو گولی مارکرہلاک کردیا گیا | حالات حاضرہ | DW | 30.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: معروف روہنگیا کارکن کو گولی مارکرہلاک کردیا گیا

روہنگیا مسلمانوں کے لیے کام کرنے والے معروف کارکن محب اللہ کو بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کئی عالمی تنظیموں نے اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے قتل کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم کارکن محب اللہ کو بدھ کی شام کو بنگلہ دیش کے جنوبی کاکس بازار میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔  وہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے اپنی فلاحی سرگرمیوں کے سبب بین الاقومی سطح پر معروف تھے۔  

 تقریبا ًپچاس برس کے محب اللہ پیشے سے ٹیچرتھے اور روہنگیا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے آواز اٹھاتے رہے تھے۔ وہ بھی سنہ 2017 میں میانمار میں فوجی کریک ڈاؤن کی وجہ سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچے تھے اور وہیں پناہ لے رکھی تھی۔ وہ اپنی پناہ گزین برادری کے لیے نہ صرف کافی سرگرم تھے بلکہ وہ ان کی آواز بھی سمجھے جاتے تھے۔

محب اللہ کے دفتر میں کام کرنے والے ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ بدھ کے روز جس وقت ان پر گولی چلائی گئی، وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے دفتر کے باہر بعض دیگر پناہ گزینوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اسی وقت ایک غیر نامعلوم شخص نے ان پر کم سے کم تین بار فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا، ''ان پر چھپ کر بالکل قریب سے فائرنگ کی گئی۔'' اس سے وہاں پر موجود بہت سے دیگر روہنگیا پناہ گزین ڈر کے مارے بھاگنے اور چپنے پر مجبور ہو گئے۔ بعد میں انہیں کیمپ کے ہی ایک اسپتال میں لے جایا گیا۔ تاہم طبی عملے نے بتایا کہ انہیں اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔

علاقے کے ایک سینیئر پولیس افسر رفیق اسلام نے اس قتل کی تصدیق کی تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ابھی کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

موت پر ماتم اور تفتیش کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے ایک ترجمان نے محب اللہ کے قتل پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا، ''ہم اس سلسلے میں کیمپوں میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے والے ذمہ داران اور قانون نافذ کرنے والے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔''

 جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ڈائریکٹر میناکشی گانگولی نے بھی محب اللہ کی موت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کے لیے ان کی آواز بہت اہم تھی اور اس سے اسے غیر تلافی نقصان پہنچا ہے۔

تنظیم نے اس واقعے کی مکمل تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے حکام اور پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایجنسی کو ان افراد کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے روہنگیا پناہ گزینوں کے تحفظ کے بارے میں گزشتہ برس بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

تشدد میں اضافہ

بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے بیشتر روہنگیا مسلمانوں نے کاکس بازار نامی شہر میں پناہ لے رکھی ہے جہاں تقریبا ًدس لاکھ پناہ گزین رہتے ہیں اور اسے دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام پناہ گزین میانمار سے جان بچا کر کسی طرح بنگلہ دیش پہنچے ہیں تاہم یہاں بھی ان کی زندگی مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے۔ 

حالیہ مہینوں میں ان پناہ گزینوں کے خلاف تشدد میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ علاقے میں مسلح افراد اکثر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ناقدین کو اغوا کر لیتے ہیں جبکہ بعض دیگر گروپ خواتین کو قدامت پسند اسلامی اصولوں کو توڑنے سے باز رکھنے کے لیے انہیں متنبہ کرتے رہتے ہیں۔

محب اللہ امید کی کرن تھے

محب اللہ نے امن اور حقوق کی پاسبانی کے لیے اراکان روہنگیا سوسائٹی قائم کی تھی، جو ان پناہ گزینوں کے لیے مسلسل جد و جہد میں لگی رہتی

 تھی۔ اسی تنظیم نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار فوج کی ظلم و زیادتیوں کا بھی ریکارڈ جمع کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے ان زیادتیوں کو نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔

محب اللہ نے قتل اور غارت گری کے واقعات کو عالمی برادری کے سامنے اس انداز میں ذکر کیا تھا کہ عالمی برادری نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے 2019 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو بتایا تھا کہ روہنگیا چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ اس کا حصہ بنیں۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی اور وہاں بھی اپنے خطاب میں روہنگیاؤں کی تکالیف اور مسائل کے بارے میں بات کی تھی۔

ص ز/ ج ا (اے پی، روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 03:56

بھارت میں لاک ڈاؤن اور روہنگیا کی حالت زار

DW.COM