بنگلہ دیش: زبردست بارشوں کے سبب ہزاروں روہنگیا بے گھر | حالات حاضرہ | DW | 30.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: زبردست بارشوں کے سبب ہزاروں روہنگیا بے گھر

بنگلہ دیش میں گزشتہ کئی دنوں سے ہونے والی زبردست بارش نے روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں تباہی مچادی ہے، ابھی مزید بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ ہزاروں افراد کو عارضی خیموں میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ زبردست بارش کی وجہ سے جنوبی بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپ اور وہاں تعمیر عارضی مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ کیمپوں میں پانی بھرگیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مکینوں کو کسی دوسری جگہ کیمپوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے پاس یا پھر عارضی خیموں میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔

اقو ام متحدہ کی ایجنسی نے بتایا کہ زبردست بارش کی وجہ سے اب تک بارہ ہزار سے زائد مہاجرین متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی تقریباً ڈھائی ہزار جھگیاں تباہ ہوگئی ہے۔ پانچ ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو دوسری جگہ عارضی خیموں میں منتقل کیا گیا ہے۔

کاکس بازار ضلع میں، جہاں تقریباً آٹھ لاکھ روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں، بدھ کی سہ پہر تک چوبیس گھنٹوں کے دوران تیس سینٹی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔ ایک دن میں ہونے والی یہ بارش جولائی کے پورے مہینے میں ہونے والی اوسط بارش کے نصف کے قریب ہے۔ محکمہ موسمیات نے آنے والے چند دنوں کے دوران مزید زبردست بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ بنگلہ دیش میں مون سون کا موسم اگلے تین ماہ تک رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:روہنگیا مہاجر کیمپ میں آگ: پندرہ افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

اقو ام متحدہ کی ایجنسی نے مزید کہا،”کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اس وقت ملکی سطح پر سخت لاک ڈاون نافذ ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے کے اوائل میں پناہ گزین کیمپوں میں چھ افراد کی موت ہوگئی۔ ان میں سے پانچ مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے دب کر ہلاک ہوگئے جب کہ ایک بچہ پانی کی تیز دھار میں بہہ گیا۔

کھانا اور پانی کی قلت

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کے ترجمان ہانا میک ڈونلڈ نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی امدادی ٹیمیں تعینات کی جارہی ہیں۔

روہنگیا مہاجرین کا کہنا تھا کہ انہیں ٹھیک سے نہ تو کھانے کے لیے کچھ مل پا رہا ہے اور نہ ہی پینے کے لیے پانی۔

خدیجہ بیگم نامی ایک پناہ گزین خاتون نے بتایا،”پچھلے چار دنوں سے ہونے والی مسلسل بارش کی وجہ سے آج میرے پورے گھر میں پانی بھر گیا ہے۔ ہمیں ابھی کچھ بھی کھانے کو نہیں مل سکا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ میرے بچے کہیں سوتے ہوئے پانی میں ڈوب کر ہلاک نہ ہو جائیں۔"

یہ بھی پڑھیں:سمندر میں پھنسے روہنگیا مہاجرین کو بچانے کی اپیل

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ خراب موسم، مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کی وجہ سے بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا مہاجرین کی مصائب میں کافی اضافہ ہوگیا ہے اور انہیں اس وقت فور ی طور پر امداد کی ضرورت ہے۔

مسلسل پریشانی

 پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے روہنگیاوں کو پورے سال مختلف طرح کی پریشانیوں مثلاً سمندری طوفان، زبردست بارش، سیلاب، مٹی کے تودے کھسکنے اور دیگر قدرتی آفات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ بودھ مت اکثریتی ملک میانمار میں مسلم نسلی گروپوں کے خلاف اگست 2017 میں فوجی کارروائیوں کے بعد سے ہی ہزاروں روہنگیا جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش آگئے تھے۔ اس وقت سات لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین بنگلہ دیش کے مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اقو ام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے گروپوں نے میانمار میں فوجی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ فوجی کاررائیوں کے دوران نسلی اقلیتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، انہیں قتل کیا گیا اور ان کے مکانات کو آگ لگا دیا گیا۔ حالانکہ بنگلہ دیش اور میانمار مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں تاہم روہنگیاوں کا کہنا ہے کہ واپسی کی صورت میں انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: روہنگیا مہاجرین کی متنازعہ جزیرے پر منتقلی کا سلسلہ جاری

مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ کاکس بازار ضلع بنگلہ دیش میں قدرتی آفات کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:31

روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں کورونا وائرس پھیلنےکا خوف

 ج ا/ ص ز (اے پی، روئٹرز)