بم حملے کی دھمکی، ترک صدر کے خطاب میں تاخیر | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بم حملے کی دھمکی، ترک صدر کے خطاب میں تاخیر

ترک صدر عبداللہ گل جرمنی کے دورے پر ہیں۔ گزشتہ روز انہیں ہمبولٹ یونیورسٹی میں خطاب کرنا تھا، جو بم حملے کی ایک دھمکی کے باعث مقررہ وقت کے بجائے کئی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو سکا۔

ترک صدر نے جرمنی کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو سراہا

ترک صدر نے جرمنی کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو سراہا

ترک صدر عبداللہ گل کو گزشتہ روز برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں خطاب کرنا تھا تاہم ان کی آمد سے چند لمحے قبل ہی پولیس کو یونیورسٹی میں بم رکھے جانے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون کے ذریعے مطلع کیا کہ یونیورسٹی میں بم نصب کیا گیا ہے۔ برلن پولیس کے ترجمان مشائیل گاسن نےکہا کہ گوکہ ٹیلیفون پر دی جانے والی دھمکی صحیح طور پر سمجھ نہیں آئی تاہم پھر بھی اس پیغام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے پوری یونیورسٹی کی تلاشی لی۔ ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ یہ دھمکی کرد باغیوں کی جانب سے تھی۔

Berlin Humboldt-Universität Rede von Gül abgesagt

بم کی اطلاع کے بعد یونیورسٹی کی مکمل تلاشی لی گئی

اس حوالے سے ترک صدر گل کا کہنا تھا کہ کچھ افراد شروع ہی سے نہیں چاہتے تھے کہ وہ ہمبولٹ یونیورسٹی میں خطاب کریں۔’’جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ میں ہر حالت میں خطاب کرنا چاہتا ہوں توانہوں نے بم رکھے جانے کا خوف پھیلا کر اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی‘‘۔  عبداللہ گل کے بقول کوئی بھی تنظیم یا گروپ، جو بم حملے کرتا ہے یا اسے بطور دھمکی استعمال کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے اور وہ دہشت گردی سے خوف کھانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ عبداللہ گل نے کئی گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ کرد باغیوں کے ’روج‘ ٹیلی وژن نے دن بھر اپنے ناظرین کو پیغام دیا کہ وہ ان کے دورے کو ناکام بنانے کی کوشش کریں۔

ترک صدر کے خطاب کے دوران یونیورسٹی کے باہر تقریباً 50 افراد نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نےکرد باغیوں کی تنظیم ’پی کے کے‘ کے حق میں نعرے بازی کی اور تنظیم کے گرفتار لیڈر عبداللہ اوچلان کے رہائی کا مطالبہ کیا۔ ’پی کے کے‘  کو ترکی، امریکہ اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

 

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت:  شامل شمس 

 

 

DW.COM