بلوچستان کی خواتین کے نفسیاتی مسائل | معاشرہ | DW | 12.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بلوچستان کی خواتین کے نفسیاتی مسائل

کم عمری میں شادی ایک ایسا ناسور ہے جو نا صرف متعلقہ لڑکی کی پوری زندگی اجاڑ دیتا ہے بلکہ اس نے بہت سے سنگین معاشرتی مسائل کو بھی جنم دیا ہے جنھیں جرائم کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

بلوچ تاریخ عربوں کے مکران میں آنے سے  پہلے کی روایات کے دھندلکے میں گم ہے۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق 15ویں صدی میں رند اور لاشاری قبائل میر چاکر خان کی سر براہی میں مکران میں  آکر آباد ہوئے۔ یہ وہی میر چاکر خان ہیں جن کی  شریک  حیات ہانی سے متعلق لوک داستان 'ہانی شہہ مرید‘ بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ روایت کے مطابق  بی بی ہانی، شہہ مرید کی منگیتر تھیں مگر  میر چاکر خان ان کی صرف ایک جھلک دیکھ کر انھیں دل دے بیٹھے اور پھر   ان کے حصول  کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔  ایک بلوچ روایت ہے کہ اگر کسی خوشی کے موقع پر گانے بجانے والے ڈوم جنھیں میراثی بھی کہا جاتا ہے متعلقہ شخص سے کچھ مانگیں تو اسے  ہر حال میں وہ مانگ پوری کرنا پڑتی ہے۔ یوں شہہ مرید اپنے ایک قول  پر  ہانی بی بی کو ہار کر اس قدر دل بر داشتہ ہوئے کہ جنگل کا رخ کیا اور ساری عمر اس  غم میں تیاگ دی۔

ہانی شہہ مرید سے مماثل کئی اور لوک کہانیاں بھی بلوچی تاریخ کا حصہ ہیں مگر  15 ویں صدی کی ہانی بی بی  سے آج کے ڈیجیٹل دور کی بلوچ عورت تک سب کی داستان کم و بیش ایک جیسی ہے۔ بلوچ عورت آج بھی ایک ارزاں جنس ہے جسے ایک قول کے عوض ہارا جا سکتا ہے، جسے اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے کاری کیا جاسکتا ہے، جو محض گھر کی خادمہ اور بچے پیدا کرنے والی ایک مشین، ایک بے زبان  مویشی  ہے جسے  مرد جہاں چاہے ہانک سکتا ہے۔

مئی کے آخر تک ہفتہ وار بارشوں کے باعث کوئٹہ کا موسم  کافی حد تک  معتدل تھا مگر جون شروع ہوتے ہی یہاں گرمی اپنا جوبن دکھلانے لگی ہے۔ ایسی ہی ایک  جھلستی دوپہر میں جب میں 22 سالہ زرمینہ سے ملاقات کو پہنچی تو لائٹ نہ ہونے کے باعث ان کا چھو ٹا سا خستہ حال گھر تندور معلوم  ہوتا تھا۔ کوئٹہ کے علاقے کلی شابو کی رہائشی  زرمینہ کی شادی محض  12 برس کی عمر میں 40 سالہ زرک بلوچ سے ہوئی اور اب وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں جبکہ چھٹے بچے کی آمد جلد متوقع ہے۔ کم عمری کی شادی اور لگاتار بچوں کی پیدائش کے باعث زرمینہ  متعدد جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں مگر علاج تو درکنار  فی الوقت کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث گھر میں فاقوں کی  نوبت آچکی ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل ہی ان کے شوہر ایک 15 سالہ لڑکی سے دوسری شادی بھی کر چکے ہیں اور اب ان کا زیادہ تر وقت دوسری بیوی کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ بمشکل پرائمری  پاس زرمینہ  سے نفسیاتی عوارض پر بات کرنا ایک الگ مسئلہ تھا کیونکہ وہ اور  ہزاروں بلوچ خواتین سرے سے یہ ادراک ہی نہیں رکھتیں کہ وہ جس ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اس میں ایک ڈاکٹر یا ماہر نفسیات ان کی مدد کر سکتا ہے۔ زرمینہ کے بقول وہ اور ان جیسی خواتین کی زندگی ایک کمرے سے شروع ہو کر ایک کمرے پر ہی ختم ہوجاتی ہے اور یہی ان کا مقدر ہے۔

مسلسل دو بچوں کی پیدائش کے بعد سے ڈپریشن

زرمینہ  سے حاصل ہونے والی معلومات  کے مطابق ان کے پہلے دو بچوں کی پیدائش  ڈسٹرکٹ ژوب میں ہوئی اور وہ تب ہی سے ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہیں کیونکہ ژوب میں خواتین گائناکولوجسٹ کی کمی کے باعث زچگی کے پیچیدہ آپریشن مرد ڈاکٹر حضرات کرتے رہے ہیں جس کے باعث کم عمر لڑکیاں زچگی  کے وقت شدید خوف اور الجھن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جبکہ بہت سے غیرت مند مرد حضرات بیوی اور بچے کا مرنا برداشت کر سکتے ہیں مگر وہ مرد ڈاکٹروں سے آپریشن نہیں کرواتے۔

ویڈیو دیکھیے 02:22

لیلا بائی، پاکستان کی کمیونٹی مِڈوائف

بلوچستان ایک وسیع رقبے والا صوبہ ہے یہاں آبادی لمبے فاصلوں کے ساتھ دور دراز مقامات تک پھیلی ہوئی ہے جہاں ضروریاتِ زندگی، خصوصاﹰ صحت اور علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان ہے۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث دور دراز سے خواتین  کے پیچیدہ زچگی کے کیسز کو کوئٹہ منتقل کرنا ایک الگ مسئلہ ہوتا ہے اور تعلیم کی کمی کے باعث ان علاقوں کے مرد یہ شعور نہیں رکھتے کہ حمل کے آخری مہینوں میں خواتین جن مسائل کا شکار ہوتی ہیں انھیں جنرل فزیشن یا گائناکولوجسٹ مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتیں۔ چونکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مختلف اقوام آباد ہیں لہٰذا وہاں کی خواتین کے مسائل بھی مختلف اور متنوع ہیں۔ جھل مگسی، گوادر، اوستہ محمد اور مکران وغیرہ میں بتدریج خواندگی میں اضافے کے باعث خواتین کی حالت نسبتا  بہتر ہے مگر ان علاقوں میں بھی عموماﹰ 13 سے 17 سال کی عمر میں لڑکیوں  کی شادی کر دی جاتی ہے اور پھر سسرال والوں کی جانب سے جلد از جلد بچے کی پیدائش کا دباؤ ہوتا ہے۔ عموماﹰ 25 سال  کی عمر تک یہ خواتین پانچ چھ بچوں کی مائیں بن چکی ہوتی ہیں۔

شادی شدہ جوڑوں پر والدین اور سماج کا دباؤ

18 سالہ امینہ  علی کا تعلق جھل مگسی کے علاقے گوٹھ سدرہ مٹھل سے ہے۔ ان کی شادی 15 برس کی عمر  میں 25 سالہ رمضان علی سے ہوئی جو والدین کے اکلوتے بیٹے تھے لہٰذا شادی کے ایک ماہ بعد ہی ان کی ساس کی جانب سے  بچے کا مطالبہ بڑھتا گیا۔ اسی دوران  امینہ کا پہلا حمل ضائع ہوگیا تو ساس کے رویے میں شدت  آگئی اور انھوں  نے پیر فقیر اور تعویز گنڈوں کا سہارا لیا۔ امینہ کہتی ہیں کہ ساس، سسر کے  جارحانہ رویے  کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کے باعث شاید پاگل ہی ہو جاتی مگر ان کے شوہر جو اگرچہ  صرف  ایف اے پاس ہیں مگر نفسیاتی مسائل کا شعور رکھتے ہیں، انھوں نے ان کا ساتھ دیا اور جلد ہی والدین سے علیحدگی اختیار کرلی۔ رمضان علی کے مطابق بلوچستان میں محض خواتین ہی نہیں مردوں میں بھی نفسیاتی عوارض کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ  والدین ہیں جو اپنے فضول رسم ورواج اور روایات کو  الوداع کہنے پر تیار نہیں۔ یوں مرد چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے۔ اسے بیوی بچوں کو نئے دور کے مطابق ان کے حقوق  دینے  کے لیے والدین سے بغاوت کرنا پڑ رہی ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معروف کلینیکل سائیکاٹرسٹ ذوفشاں قریشی نے حال ہی میں بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں قائم 'انسٹی ٹیوٹ آف سائیکائٹری اینڈ بہیے ویویرل سائنسز‘ میں نفسیاتی مسائل کی درست تشخیص کے بارے میں ایک تربیتی ورکشاپ میں شریک ہوئیں۔ ذوفشاں قریشی کے مطابق بلوچستان میں چونکہ بم بلاسٹ، ٹارگٹ کلنگ اور مسنگ پرسنز کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں جو لا محالہ لوگوں میں پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کے خیال میں تاہم کم عمری  میں اور وہ بھی کسی نا پسندیدہ شخص کے ساتھ شادی  کے باعث دیہی علاقوں کی خواتین کی اکثریت کا  پوسٹ مارٹم ڈپریشن  میں مبتلا  ہونا ایک الگ حل طلب مسئلہ ہے جس کے لیے گائناکولوجسٹ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، دائی یا جس سے بھی یہ خواتین حمل کے دوران رجوع کرتی ہیں انھیں مناسب  تربیت دی جانا ضروری ہے۔ اس حوالے سے فیملی ڈاکٹر یا جنرل فزیشن بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جیسا کہ  مغربی ممالک میں ہوتا ہے کہ وہ حاملہ خواتین میں نفسیاتی مسائل کو نوٹ کر کے انھیں ماہرین نفسیات کو ریفر کرتے ہیں۔

ذوفشاں قریشی کے مطابق، ''ایک گائناکالوجسٹ یا جنرل فزیشن جسمانی زخموں کی مرہم پٹی تو کر سکتی ہے مگر  متاثرہ خاتون کی روح اور اندرون پر لگے زخم اس کی نظر سے اوجھل ہی رہتے ہیں جن کی ہیلنگ کے لیے  ایک ماہر نفسیات  کا ہونا  ضروری ہے۔‘‘

کم عمری کی شادی ایک ناسور

کم عمری میں شادی ایک ایسا ناسور ہے جو  نا صرف متعلقہ لڑکی کی پوری زندگی  اجاڑ دیتا ہے بلکہ اس نے بہت سے سنگین معاشرتی مسائل کو بھی جنم دیا  ہے جنھیں جرائم کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اگرچہ یہ صرف بلوچستان  یا پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بھارت، بنگلا دیش اور کئی افریقی ممالک میں کم عمری میں شادی کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر اسے جڑ سے اکھاڑنے کا واحد طریقہ  سوچ میں تبدیلی ہے۔ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے معاملے میں کسی معاشرتی  و سماجی خوف خطرے کے بغیر فیصلے کرنے کے لیے بہترین ذہنی صحت اور ایک مضبوط احساس ِ شناخت  کا ہونا ضروری  ہے۔ یاد رکھیے، اگر معاشرے سے فرسودہ روایات کو بر وقت ختم نہیں کیا گیا تو ہماری اگلی نسل اس سے کہیں زیادہ سنگین نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگی۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM