بلوچستان: مدرسے میں دھماکا، افغان طالبان سربراہ کا بھائی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 16.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بلوچستان: مدرسے میں دھماکا، افغان طالبان سربراہ کا بھائی ہلاک

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں ایک دینی مدرسے میں آج ہونے والے بم دھماکے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندازہ کے بھائی حمد اللہ اخوندزادہ چار دیگر مبینہ شدت پسندوں سمیت ہلاک ہو گئے۔

مقامی پولیس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکا کچلاک کے نواحی علاقے کلی قاسم میں قائم ایک دینی مدرسے میں اس وقت ہوا جب وہاں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی ۔

اس حملے میں  بیس سے زائد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں بھی متعدد کی حالت تشویش ناک ہے اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ  ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے بقول، بم دھماکے میں 'ہائی ایکسپلوزیو‘  دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ''اب تک ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ خیز مواد پیش امام کے منبر کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔‘‘  دھماکے سے کئی قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ڈی آئی جی کے مطابق بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے کیونکہ اس حساس علاقے میں دینی مدرسے کے اندر دھماکہ خیز مواد کی تنصیب اندرونی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں تین افراد کی شناخت رحیم گل، محمد خان اور حمد اللہ اخوندزادہ کے طور پر بتائی گئی ہے۔

کوئٹہ کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں مولوی حمد اللہ اخوندزادہ، افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کے بھائی بھی موجود تھے۔

ڈی ڈبلیوسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ''بلوچستان میں افغان طالبان، افغان مہاجرین کے کور میں کئی علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔ آج اس حملے میں جو لوگ نشانہ بنے ہیں ان پر بھی یہی شبہہ ہے کہ وہ بھی طالبان شدت پسندوں کی تحریک کا حصہ تھے۔ ہمیں عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا ہے کہ جس مدرسے میں یہ دھماکہ ہوا ہے وہاں افغان طالبان کی اکثر آمد و رفت ہوا کرتی تھی۔‘‘

کوئٹہ میں ایک اور حملہ، پانچ افراد ہلاک

انٹیلی جنس اہلکار نے مزید بتایا کہ ''یہاں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان افراد میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں پرانی دشمنی کی وجہ سے بھی یہاں نشانہ بنایاجاتا رہا ہے۔ ماضی میں یہاں افغان طالبان کے کئی اہم اور سرکرہ دیگر رہنماء بھی ٹارگٹ کلنگ کے دوران ہلاک کیے جا چکے ہیں۔‘‘

افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے بارے میں بھی سنء 2016 میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ طالبان تحریک کی سربراہی سے قبل وہ کچلاک میں مقیم تھے۔

گزشتہ برس بھی کچلاک میں ملا کوچی نامی افغان طالبان کے ایک اور اہم کمانڈر کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار میجر (ر) عمر فاروق کے بقول، طالبان شدت پسندوں پر حملے اُن حملوں کا رد عمل ہو سکتے ہیں جو حال ہی میں افغانستان میں کئے گئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ہمیں اس صورت حال کا دو مختلف زاویوں سے جائزہ لینا ہوگا۔ طالبان پر حملے میں جو عناصر سامنے نظر آ رہے ہیں ان میں داعش کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو سابقہ ادوار میں افغان حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ ایسے عناصر یہ نہیں چاہتے کہ طالبان دوبارہ اافغانستان میں اقتدار کا حصہ بنیں۔‘‘

کوئٹہ میں بم دھماکا، دو افراد ہلاک

میجر (ر) عمر فاروق کے مطابق ''آج کچلاک میں ہونے والے بم دھماکے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ طالبان مخالف عناصر بھی بڑے پیمانے پر بلوچستان میں فعال ہیں۔ افغانستان میں جب بھی طالبان کے حملوں میں تیزی آتی ہے ان پر پاکستان میں حملے تیز ہو جاتے ہیں ۔‘‘

واضح رہے کہ کچلاک میں آج ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ اس حملے کا مقدمہ کوئٹہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔ کچلاک دھماکے میں آج ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

DW.COM