بلوچستان زلزلہ: درجنوں دیہات مکمل تباہ، تاحال 328 ہلاکتیں | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بلوچستان زلزلہ: درجنوں دیہات مکمل تباہ، تاحال 328 ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کے سہ پہر آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 328 تک پہنچ گئی ہے جبکہ چھ سو سے زائد زخمی ہیں۔

حکام کے مطابق زلزلے سے صوبے کے چھ اضلاع میں وسیع پیمانے پر تبائی ہوئی ہے، جس کے نیتیجے میں سینکڑوں مکانات منہدم اور متعدد دیہات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے جنوب مغربی بلوچ اکثریتی علاقوں، تربت اواران، خضدار، پنجگور، چاغی، گوادر اور دالبندین میں ہوا ہے۔ صوبے کے ان دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں اب تک 328 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کو کوئٹہ اور کراچی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

امدادی کارروائیاں

متاثرہ علاقوں میں قائم ایمرجنسی ریسپانس یونٹس میں بھی ان زخمیوں کو فوری طبی امدد دی جا رہی ہے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بہت بڑے پیمانے پر تبائی ہوئی ہے اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ ڈی ڈبلیوسے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’بہت بڑا علاقہ ہے جو اواران اور بیلہ سے شروع ہو کر کیچ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میں غریب لوگ آباد ہیں۔ سارے کچے مکانات ہیں اور یہ تقریبا سارے منہدم ہو چکے ہیں۔ بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور ہلاکتیں بہت زیادہ ہو سکتی ہیں۔‘‘

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں این ڈی ایم اے، مقامی انتظامیہ، پاک فوج اور ایف سے کے دو ہزار سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے پاک بحریہ کا ایک جہاز بھی گوادر پہنچ گیا ہے جبکہ دوسری طرف 40 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ ریلیف اپریشن میں فوکر طیاروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے خضدار کو امدادی سرگرمیوں کے لیے بیس کیمپ قرار دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے تاثرات

شدید زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مقامی لوگ شدید خوف و وہراس کا شکار ہیں۔ میز احمد نامی ایک شخص کا ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’تبائی بہت زیادہ ہوئی ہے۔ ابھی تک کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور کئی علاقوں میں ابھی تک امداد سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں۔ جب زلزلے سے زمین ہلنے لگی تو اچانک گھر گرنا شروع ہو گئے اور چاروں طرف مٹی اڑنے لگی۔‘‘

اسی طرح خیر جان بلوچ کا کہنا تھا، ’’زمین لرز رہی تھی، سب لوگ اِدھر اُدھربھاگ رہے تھے۔ ہم بھی زندگی بچانے کے لیے بھاگ پڑے بہت خوف کا سماں تھا۔‘‘

زلزے سے متاثر عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔ لسبیلہ سے حکمراں جماعت نون لیگ کے منتخب رکن قومی اسمبلی جام کمال کے مطابق حکومت زلزلے سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا، ’’حکومت بلوچستان اور مرکزی حکومت زلزلہ متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن کو شش کر رہی ہے اور ان علاقوں تک بھی رسائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جہاں دشوار گزار راستوں کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔‘‘

آفٹر شاکس

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزے سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی آفٹر شاکس کا سلسہ جاری ہے۔ دریں اثناء ہندوکش، چترال، ٹرالپوری، مالاکنڈ ڈویژن اور پشاور میں بھی بدھ کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں، جن کی شدت چار اعشاریہ سات تھی اور ان کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔ دوسری طرف زلزلے سے گوادر کے سمندر میں مغرب کی جانب ایک جزیرہ بھی نمودار ہوا ہے، جس کی اونچائی ایک سو اور لمبائی دو سو فٹ کے قریب بتائی گئی ہے۔