بلوچستان: افغان طالبان کے سربراہ کا ایک اور ساتھی قتل | حالات حاضرہ | DW | 17.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بلوچستان: افغان طالبان کے سربراہ کا ایک اور ساتھی قتل

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ایک اور قریبی ساتھی ملا محمد اعظم اخوند کو آج صوبہ بلوچسان کے علاقے کچلاک میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ وہ کچلاک کے ایک مقامی دینی مدرسے کے سربراہ تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ طالبان کمانڈر پر موٹر سائیکل پر سوار افراد نے نائن ایم ایم پسٹل سے فائرنگ کی جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے مبینہ طالبان کمانڈر ملا محمد اعظم کی لاش جب کوئٹہ سول اسپتال منتقل کی گئی تو لواحقین نے میڈیا کو مقتول کا چہرہ دکھانے اور کوریج سے روکنے کی بھی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق ملا اعظم کو اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ ایک مقامی دکان میں موجود تھے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ گزشتہ روز کچلاک مدرسے پر بم حملے میں ملوث گروہ کے ایک اہم رکن کو پکڑ لیا گیا ہے۔  طالبان کے مطابق گزشتہ روز کے مبینہ حملہ آور بم دھماکے سے متاثرہ دینی مدرسے کا چوکیدار ہے، جس سے وہ ریموٹ بھی برآمد ہو گیا ہے، جسے بم دھماکے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پکڑا گیا مبینہ حملہ آور بھی ایک افغان شہری ہے اور وہ افغان فوج سے منسلک رہ چکا ہے۔ طالبان نے اپنے دعوے میں واضح کیا ہے کہ سابق افغان فوجی اہلکار کی مدرسے میں بطور چوکیدار تعیناتی کے حوالے سے بھی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم طالبان کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ طالبان کے ہاتھوں مدرسے پر حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور کی گرفتاری کے حوالے سے پاکستانی سکیورٹی حکام نے تاحال کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

ڈی ڈبلیو نے اس گرفتاری کے حوالے سی ٹی ڈی اور متعلقہ پولیس حکام سے کوئٹہ میں رابطہ کیا تو انہوں نے اس کارروائی کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

Pakistan Bombenanschlag in Quetta (DW/A. Ghani Kakar)

افغان طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ گزشتہ روز کچلاک مدرسے پر بم حملے میں ملوث گروہ کے ایک اہم رکن کو پکڑ لیا گیا ہے

اسلام آباد میں مقیم افغان امور کے ماہر ڈاکٹر راشد احمد کے بقول افغان طالبان پر بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے طالبان قیادت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''افغان طالبان پر یہ تازہ حملے ایک غیرمعمولی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے طالبان رہنماؤں کو، جو عناصر نشانہ بنا رہے ہیں، وہ یہ نہیں چاہتے کہ افغان امن عمل کامیابی سے ہمکنار ہو۔ طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان مذاکرات میں کافی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ اس امن عمل میں رکاوٹیں حائل کی جائیں۔‘‘

ڈاکٹر راشد کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر پاکستانی حدود میں تازہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں ایسے عناصر بھی موجود ہیں، جو یہ نہیں چاہتے کہ افغان اقتدار میں طالبان دوبارہ حصہ دار بنیں۔ انہوں نے مزید کہا، ''افغانستان میں قیام امن سے پاکستان سب سے زیادہ مستفید ہو گا۔‘‘

افغان حکومت کے کچھ دھڑےمسلسل یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پاکستان طالبان کو معاونت فراہم کرتا رہا ہے ۔ ڈاکٹر راشد کے بقول، '' ان تازہ حملوں کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کی پشت پنائی پاکستان میں ہی کی جا رہی ہے۔ اسی لئے انہیں وہاں گرفتار نہیں کیا جا رہا۔‘‘

کوئٹہ سے گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کچلاک کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں کیا جا تا ہے، جہاں افغان مہاجرین کی ایک کثیر تعداد مقیم ہے۔ ذرائع کے مطابق کچلاک میں گزشتہ روز افغان طالبان کے جس مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، وہ پاکستان کے وفاق المدارس سے بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ پاکستانی سکیورٹی حکام نے اس حملے کے بعد ایسے مدارس کی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی ہے، جن کا ریکارڈ سرکاری سطح پر دستیاب نہیں ہے۔

کچلاک کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس، پشتون آباد ، پشین، سرخاب، یارو، کلی تراٹہ اور بعض دیگر علاقوں میں بھی افغان طالبان کی موجودگی کی اطلاعات تسلسل کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔

افغان حکومت ماضی میں الزام عائد کرتی آئی ہے کہ افغانستان جنگ کے دوران زخمی ہونے والے افغان طالبان کو بھی علاج معالجے کے لئے اکثر اوقات حلیے تبدیل کر کے کوئٹہ منتقل کر دیا جاتا ہے۔

ماضی میں زرغون روڈ اور سیٹلائٹ ٹاؤن میں قائم نجی ہسپتالوں سے درجنوں ایسے افغان طالبان کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے، جو وہاں علاج کے لئے لائے گئے تھے۔

کوئٹہ میں مقیم دفاعی امور کے تجزیہ کار ندیم خان کے بقول قیام امن کے لیے شدت پسندی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی وقت کی اولین ضرورت ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''دیکھیں یہ بہت اہم ہے کہ صورتحال کا زمینی حقائق کے مطابق جائزہ لیا جائے۔ یہاں بدامنی پھیلانے والے گروپوں کے مفادات تو الگ ہو سکتے ہیں لیکن ایک بات ان سب میں مشترک ہے۔ وہ یہ کہ پرتشدد کارروائیاں ہمیشہ یہاں حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی ہیں۔ افغانستان پاکستان کا ایک اہم ترین ہمسایہ ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مفادات کا یکساں خیال رکھنا ہو گا۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان شدید عدم اعتماد کی فضاء قائم ہے۔ جب تک اعتماد بحال نہیں ہو گا یہاں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔‘‘

ندیم خان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر تازہ حملوں کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ طالبان امن مذاکرات کے باوجود حملوں میں کوئی کمی نہیں لا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کوئٹہ اور کچلاک میں طالبان پر ہونے والے حملوں میں 12 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں اکثر کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔