بلنکن کا دورہ مشرق وسطیٰ مکمل، عمران خان کی السیسی سے گفتگو | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بلنکن کا دورہ مشرق وسطیٰ مکمل، عمران خان کی السیسی سے گفتگو

 وزیر اعظم عمران خان نے فلسطین کے حوالے سے مصری صدر سے بات چیت کی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد مشرق وسطی کا اپنا دورہ مکمل کر لیا ہے۔

اسرائیل او رفلسطینیوں کے درمیان گیارہ دنوں تک چلنے والی جنگ کے بعد قیام امن اور غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سفارتی اقدامات کی تازہ ترین کڑی کے تحت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مشرق وسطی کے دورے کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور مصری صدر السیسی سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

عمران خان اور السیسی کے درمیان گفتگو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے عبد الفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فورسز کی مکمل واپسی پر زور دیا۔

پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ”عمران خان نے بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کی مکمل واپسی، فلسطینیوں کو ان کا حق خودارادیت دینے سمیت ان کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل کے طور پر ایک آزاد، فعال اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔"

عمران خان نے فلسطینیوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور مسجد اقصی کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کی اور غزہ کی موجودہ صورت حال کو فلسطینیوں کے لیے کھلی جیل قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں سے مصری رہنما کو آگاہ کیا اور جنگ بندی کرانے میں مصر اور اس کی قیادت کے کردار کی تعریف کی۔

بلنکن کا دورہ مشرق وسطیٰ مکمل

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بدھ کے روز اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کا اپنا دورہ مکمل کر لیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق بلنکن نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”ہم جنگ بندی کو کسی اختتام کے طور پر نہیں، آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر آگے مزید کام کیا جا سکتا ہے۔'' انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح غزہ کے بیس لاکھ عوام کی فوری ضروریات کو پورا کرنا ہے، اور پھر یہ طے کرنا ہے کہ ''حالات اتنے بہتر کیے جائیں کہ ان میں آگے بڑھنے کی کوشش کی جا سکے۔''

امریکی وزیر خارجہ نے گو امن مذاکرات کے کسی نئے دور کے امکان کو بعید از قیاس قرار دیا تاہم کہا کہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور غزہ کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے چند حقیقت پسندانہ اہداف کی جانب کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

بلنکن کی اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں

امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز اسرائیلی صدر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماوں نے امریکی اسرائیلی شراکت داری اور خطے میں تمام لوگوں کے لیے امن کی ضرورت پر زور دیا۔

 اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے امریکی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ایک یہودی جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کو اس کا جائز حق فراہم کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید اور اعتماد کی بحالی کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بلنکن نے منگل کے روز فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے جنگ بندی کی تعریف کرتے ہوئے اس اقدام کو مزید مستحکم کرنے اور غزہ میں معاملات کو مثبت سمت میں بڑھانے پر زور دیا تھا۔

بلنکن کے قاہرہ کے دورے اور صدر السیسی سے ملاقات کے بعد مصری ایوان صدر کی طر ف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ غزہ پٹی میں تعمیر نو شروع کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے بھی جاری ایک بیان کے مطابق امریکا امن کے حصول کے لیے مصر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

غزہ کی تعمیر نو کے لیے امداد لیکن حماس کو نہیں

امریکی وزیر خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے امداد دینے اور یروشلم میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا،جسے ٹرمپ انتظامیہ نے بند کردیا تھا۔

انٹونی بلنکن نے غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے فوری طورپر پانچ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر دینے اور اقوام متحدہ کے ہنگامی فنڈ میں 32 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔

فلسطینی رہنما محمود عباس کی موجودگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امرکو یقینی بنایا جائے گا کہ غزہ کی تعمیر نو کی کوششوں میں حماس کو اس امداد میں سے کچھ بھی نہ مل سکے۔

خیال رہے کہ غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے اور امریکا اس کو دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔

 ج ا / ص ز (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 02:33

کبھی نہ الگ ہونے والے ہمسائے: مغربی کنارے پر زندگی

DW.COM