بلغراد کی شدید سردی میں ٹھٹھرتے پاکستانی مہاجرین | مہاجرین کا بحران | DW | 11.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بلغراد کی شدید سردی میں ٹھٹھرتے پاکستانی مہاجرین

سربیا کے دارالحکومت بلغراد کی شدید سردی میں وسطی یورپ پہنچنے والے پاکستانی و افغان مہاجرین مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ وہ کرسمس کے منتظر ہیں جب شاید سرحدوں پر نگرانی کا عمل نرم کر دیا جائے۔

بلغراد کی شدید سردی میں کئی سو پاکستانی و افغان نوجوان کمبلوں میں ایک ساتھ جڑے  یخ بستہ ایام گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے کئی درجن نوجوان مہاجرین ایک گودام میں ٹھٹھرتے ہوئے کرسمس کے منتظر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس دن کے آس پاس سربیا کی حکومت شاید سرحدوں کی نگرانی میں نرمی پیدا کر دے تو ایسے میں یہ لوگ وسطی یورپ کی جانب بڑھنے کی ایک نئی کوشش کا آغاز کر سکتے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 23 برس کے نوجوان وسیم آفریدی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفت گو کرتے ہوئے کرسمس اور سرحدی نگرانی میں نرمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان دنوں میںں ایسا ممکن ہو جائے تو وہ اُن ملکوں کی جانب روانہ ہو سکیں جو یورپی یونین کا حصہ ہیں۔

مقامی افراد کا خیال ہے کہ رواں برس کرسمس پر سرحدی نگرانی میں نرمی کا امکان بہت ہی کم ہے کیوں کہ ایسا ہونے کی صورت میں مزید مہاجرین سربیا میں داخل ہو سکیں گے۔ ماضی میں کرسمس پر سرحدی نگرانی کو کم کر دیا جاتا تھا۔

Serbien Belgrad - Flüchtlinge und Einwanderer überqueren die Brücke zur Koratischen Grenze (Reuters/M. Djurica)

دریائے ساوا کا پل عبور کر کے پاکستانی مہاجرین سربیا کے دارالحکومت میں داخل ہوتے ہوئے

اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کے ایک اہل کار کے مطابق سربیا کے دارالحکومت کے مرکزی کاروباری علاقے میں ایک ہزار کے قریب پاکستانی و افغان مہاجرین کھردرے فرشوں پر سونے پر مجبور ہیں۔ نمائندے کے مطابق کئی مہاجرین کے لیے گوداموں میں عارضی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بلغراد میں درجہٴ حرات مسلسل گر رہا ہے اور سردی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

وسیم آفریدی کا کہنا ہے کہ ہر دن گزرنے کے ساتھ سردی کی شدت بڑھ رہی ہے اور کئی افراد کو مختلف بیماریوں کا بھی سامنا ہے۔ اکثر کے گلے خراب ہیں یا انہیں سردی لگنے سے بخار ہو رہا ہے۔

آفریدی پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اُس کے مطابق کئی پناہ گزین زمین پر چادریں بچھا کر گزارا کر رہے ہیں اور بعض کو کارڈ بورڈ دستیاب ہیں۔ ان مہاجرین کو خوراک میں چائے اور یورپی روٹی دستیاب ہے۔

پاکستان اور افغانستان سے نوجوان مہاجرین بلقان روٹ کے ذریعے سربیا پہنچے ہیں۔ ان کو اس منزل تک انسانی اسمگلر پہنچا کر غائب ہو چکے ہیں۔ سربیا سے بعض مہاجرین نے غیرقانونی طور پر کروشیا اور ہنگری میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل بھی کی لیکن انہیں پکڑ کر دوبارہ سربیا پہنچا دیا گیا۔