بلغاریہ سے ’افغان مہاجر‘ نکال دیے جائیں گے، وزیر اعظم | مہاجرین کا بحران | DW | 26.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بلغاریہ سے ’افغان مہاجر‘ نکال دیے جائیں گے، وزیر اعظم

بلغاریہ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں حصہ لینے والے مہاجرین کو ملک بدر کرنے سے قبل ترک سرحد کے قریب واقع ملک کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ میں منتقل کر دیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بلغاریہ کے وزیر اعظم بوئکو بورسیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث ہونے والے مہاجرین کو ’تنہا‘ کرنے کے لیے آئندہ ہفتے تک انتظامات کر لیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جو قانون پر عمل نہیں کرنا چاہتے، انہیں تنہا کر دیا جائے گا۔

ترکی اور بلغاریہ کی سرحد پر نئی یورپی سرحدی ٹاسک فورس تعینات

بلقان کے خطے سے مہاجرین کی اسمگلنگ کیسے ہو رہی ہے؟

افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جائے گا، بلغاریہ

بورسیف کے مطابق ان مہاجرین کو ہارمانلی میں واقع اس مہاجر کیمپ میں منتقل کیا جائے گا، جو ماضی میں فوجی بیرکس کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھی۔ یہ مقام ترکی کی سرحد کے قریب ہی واقع ہے۔ فی الحال اس کیمپ میں کم ازکم تین ہزار مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر افغان اور شامی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کے دن سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث ہونے والے جوان افغان مہاجرین کو اس کیمپ میں بند رکھا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین نے کیمپ میں آگ لگائی تھی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔ صوفیہ حکومت کے مطابق ان مہاجرین کو ملک بدر کرنے سے قبل اسی مہاجر کیمپ میں رکھا جائے گا۔

بورسیف کے مطابق، ’’ان مہاجرین کو جلد از جلد بلغاریہ سے نکال دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں انتظامی اور قانونی کارروائی میں مزید ایک ماہ کا وقت درکار ہو گا۔ ممکنہ طور پر ان مہاجرین کو دسمبر میں بلغاریہ چھوڑنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ تاہم ملک بدر کیے جانے والوں میں شامی کبنے شامل نہیں ہوں گے۔

بورسیف کے مطابق ہارمانلی کے مہاجرین کے ایک ’استقبالیہ سینٹر‘ پر جمعرات کے دن ہونی والی جھڑپوں میں زیادہ تر افغان مہاجرین نے حصہ لیا تھا، جن میں کچھ باقاعدہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے مہاجرین بھی شامل ہیں۔ اس تصادم میں تقریبا پندرہ سو مہاجرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا اور ٹائر جلائے تھے۔ جب سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش تو باقاعدہ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ تب پولیس نے چار سو مہاجرین کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بلغاریہ کے مختلف مہاجر کیمپوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اگرچہ مارچ کے بعد بلقان راستوں کی بندش کے بعد غیرقانونی مہاجرین کی نقل و حرکت محدود ہوئی ہے لیکن پھر بھی کچھ مہاجرین یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ صوفیہ حکومت کے مطابق اس وقت بلغاریہ میں تیرہ ہزار مہاجرین پھنسے ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد افغان باشندوں کی ہی ہے۔

DW.COM