بلاگ واچ: عمران خان بمقابلہ سلمان رشدی | معاشرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بلاگ واچ: عمران خان بمقابلہ سلمان رشدی

پاکستانی سياستدان عمران خان اور متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی کے مابين تنازعہ گزشتہ دنوں سوشل ميڈيا پر عوام اور بلاگرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پاکستانی کرکٹ کے سابق ستارے اور حاليہ سياستدان عمران خان نے رواں ماہ بھارت ميں ايک کانفرنس ميں شرکت سے انکار کر ديا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اس تقريب کا حصہ بننے سے انکار اس ليے کيا کيونکہ اس ميں بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی کی شرکت بھی متوقع تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ رشدی اپنی متنازعہ کتاب کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ بس يہی وجہ تھی کہ عمران ان کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔

ادھر عمران خان کی يہ بات سلمان رشدی کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں عمران خان کو سخت تنقيد کا نشانہ ہی نہيں بنايا بلکہ ذاتيات کی ايک نئی جنگ چھيڑ دی۔ اب ادھر رشدی پاکستانی سياستدان کو ’عِم دا ڈم‘ کے نام سے پکارتے ہيں تو دوسری طرف عمران اس متنازعہ مصنف کو ’چھوٹی ذہنيت‘ کا حامل قرار ديتے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق رشدی تو اب يہ بھی اعلان کر چکے ہيں کہ وہ عمران خان کے بارے میں ايک کتاب بھی لکھيں گے۔

يہ معاملہ گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان ميں فيس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دونوں ممالک اور مغربی دنيا ميں بھی اس موضوع پر بلاگرز نے اپنے خيالات کا اظہار کيا۔

دی انڈیپينڈنٹ بلاگ ويب سائٹ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے جان ايليٹ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں تقرير کے ليے اپنے مقررہ وقت کو بطور مصنف اپنے آپ کو مزيد منوانے کے بجائے محض عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے ليے استعمال کيا۔ بلاگر کے بقول وہ اس اقدام کے ذريعے شہرت حاصل کرنے ميں کامياب ضرور ہوئے ہيں جس کی بدولت ان کی کتاب کی فروخت بڑھے گی۔

رشدی The Satanic Verses کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کی تنقيد کا نشانہ بنے

رشدی The Satanic Verses کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کی تنقيد کا نشانہ بنے

پاکستان سے روزنامہ ڈان کے آن لائن ايڈيشن کے ليے لکھتے ہوئے نديم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ يہ معاملہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے اور اگر رشدی عمران خان پر واقعی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو يہ تنازعہ پھر سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔

ڈان کے انٹرنيٹ ايڈيشن پر شائع ہونے والے اس بلاگ ميں نعيم اللہ شاہ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی، عمران خان کا نام استعمال کرتے ہوئے ميڈيا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ مزيد مشہور ہو سکيں۔

دوسری جانب دی نيو يارک ٹائمز کے بھارتی ايڈيشن ميں انٹرنيٹ پر شائع بلاگ ميں ہيدر ٹمنز لکھتی ہيں کہ سلمان رشدی بھارت ميں تيزی سے ایک آزاد خيال رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتے جا رہے ہيں۔

فيس بک اور ٹوئٹر پر ان دنوں بھی عوام کی ايک بڑی تعداد اس معاملے پر کھل کے اپنے خيالات کا اظہار کر رہی ہے۔ ديکھنا يہ ہے کہ يہ تنازعہ آگے چل کر کيا رخ اختيار کرتا ہے۔

رپورٹ: عاصم سليم

ادارت: امجد علی

ویب لنکس

اشتہار