’بریگزٹ‘: یورپی یونین چھوڑنے کا پلڑا بھاری ہوتا ہوا | حالات حاضرہ | DW | 06.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بریگزٹ‘: یورپی یونین چھوڑنے کا پلڑا بھاری ہوتا ہوا

رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔سارے برطانیہ میں اِس مناسبت سے ایک نیشنل ریفرنڈم رواں مہینے کی 23 تاریخ کو ہو گا۔

برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا خیرباد کہنے کے ریفرنڈم کی مہم میں انتہائی گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ فریقین اپنی اپنی مہم کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق یورپی یونین چھوڑنے کی مہم کو چار سے پانچ فیصد کی سبقت حاصل ہو گئی ہے۔

گزشتہ ویک اینڈ پر تین مختلف اداروں نے رائے عامہ کے جائزے مرتب کر کے عام کیے ہیں۔ آئی سی ایم کے جائزے میں سترہ سو سے زائد افراد نے اپنی رائے دی اور اِس کے مطابق 48 فیصد یونین چھوڑنے کے حق میں ہیں جبکہ 43 فیصد اپنے ملک کے یونین میں رہنے کے حق میں ہیں۔ آئی سی ایم کے مطابق گزشتہ ہفتے یونین کی رکنیت رکھنے کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب 44 فیصد تھا۔

Großbritanien Nigel Farage Brexit Bus

برطانیہ میں یورپی یونین سے اخراج کے ایک بڑے حامی نائجل فیراژ

اِسی طرح رائے عامہ کا جائزہ مرتب کرنے والے ایک اور ادارے یُو گوو (YouGov) نے ساڑھے تین ہزار افراد کی آرا اکھٹی کیں۔ اِس کے مطابق 45 فیصد لوگ یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ اس کے مقابلے میں رکنیت رکھنے کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب 41 فیصد ہے۔ یُوگوو کے مطابق پہلی جون کے سروے میں رکنیت چھوڑنے کے حق میں چالیس فیصد لوگ تھے اور ایک ہفتے کے دوران اِس میں پانچ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلی جون کو یونین میں رہنے کے حق میں 42 فیصد رائے دہندگان تھے اور اب اِس میں ایک فیصد کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔

آج پیر چھ جون کُل آٹھ رائے عامہ کے جائزوں کے نتائج کو عام کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کے نتیجے کے مطابق حق اور مخالفت میں افراد تقریباً برابر ہیں۔ دو میں بتایا گیا کہ یونین میں رہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پانچ میں واضح کیا گیا کہ برطانوی شہری یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق گیارہ فیصد ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس تعداد میں بھی دو فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے وزراء بھی یورپی یونین میں رہنے کے حق میں رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیمرون کے وزیر خزانہ جارج اوسبورن اسی سلسلے میں شمالی آئرلینڈ پہنچے ہوئے ہیں۔ بیلفاسٹ میں تقریر کرتے ہوئے اوسبورن نے کہا کہ اگر یورپی یونین کو چھوڑنے کی مہم ریفرنڈم میں کامیاب ہو گئی تو اِس کے ناقابلِ تلافی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق سالانہ تجارتی حجم بھی سکڑ کر رہ جائے گا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی برطانوی عوام کو اخراج کی صورت میں غیر معمولی اقتصادی مسائل پیدا ہونے سے خبردار کیا ہے۔