بریگزٹ مذاکرات، ڈیل کے مسودے پر پیش رفت میں تاخیر | حالات حاضرہ | DW | 16.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بریگزٹ

بریگزٹ مذاکرات، ڈیل کے مسودے پر پیش رفت میں تاخیر

برسلز میں برطانوی اور یورپی یونین کے مذاکرات کار یورپی رہنماؤں کی جمعرات سے شروع ہونے والی سمٹ سے قبل مختلف پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مشکل ترین سیاسی آزمائش کا سامنا ہوگا۔

یورپی یونین سے برطانيہ کے انخلاء کے لیے جاری بریگزٹ مذاکرات کے دوران ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے مذاکرات کار منگل کی رات کو دیر تک بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے۔ آج بدھ کے روز بات چيت ميں فریقین کو اس وقت آئرلینڈ کی پیچیدہ سرحدی صورت حال جیسے معاملات کا سامنا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اپنے ایک بیان میں کہا  کہ آج بدھ کی شب تک بریگزٹ معاہدے کے حوالے سے واضح صورتحال سامنے آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سات سے آٹھ گھنٹے میں ہر چیز واضح ہوجانی چاہیے۔

قبل ازیں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں نے کہا تھا کہ بریگزٹ ڈیل کا طے پانا ممکن ہے لیکن ابھی تک اس معاملے پر بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ لیدریاں نے توقع ظاہر کی کہ مذاکرات میں جمود کی کیفیت کو ختم کرنا ممکن ہے۔

نو ڈیل بریگزٹ بڑا زلزلہ ہو گا، کار سازی کی یورپی صنعت کی تنبیہ

دوسری جانب یورپی یونین کے بریگزٹ کے لیے مقرر خصوصی مذاکرات کار مشیل بارنیئر نے برطانیہ کے ساتھ رواں ہفتے کے دوران بریگزٹ ڈیل طے پانے کو مناسب برطانوی حکومتی تجاویز سے جوڑا تھا۔ بارنیئر کے بقول، ابھی متعدد ایسے پیچیدہ معاملات کو حل کرنا باقی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے دفتر کی جانب سے آج صبح بتایا گیا کہ ایک مثبت سیشن کے بعد مذاکرات دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔

بریگزٹ مذاکرات کی اس بے یقینی کی صورتحال میں اگر وزارتی سطح پر کوئی قانونی حل نکالا بھی جائے، تب بھی عین ممکن ہے کہ طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو سیاسی سطح پر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو یورپی اتحاد کے مخالف سخت گیر قدامت پسند قانون سازوں کے علاوہ اپنے شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے اتحادیوں کو بھی راضی کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

جانسن کو نیا جھٹکا: پارلیمان کی معطلی غیر آئینی، سکاٹش عدالت

 واضح رہے یہ مذاکراتی عمل ایسے وقت میں جاری ہے جب یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک کی سمٹ کل جمعرات سے شروع ہونے والی ہے۔ ابھی تک برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑ دینے کی تاریخ اکتیس اکتوبر طے ہے۔

ع آ / ب ج (رچرڈ کونور)

DW.COM

Audios and videos on the topic