بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت

برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین راتوں رات ہونے والی ’ٹیلیفون ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اس حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا،’’میرا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا ہے جس کی بے حد ضرورت تھی۔‘‘ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

جرمنی اور یورپ جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے

یورو زون: آبادی 34 کروڑ، عالمی پیداوار میں حصہ 11 فیصد

اس پریس کانفرنس میں ژاں کلود یُنکر کا یہ بھی کہا کہ وہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو تجویز دیں گے کہ بریگزیٹ کے حوالے سے ہونے والی اس اہم پیش رفت کے بعد اب مستقبل میں تعلقات اور تجارت کے سلسلے میں بات چیت کا آغاز کریں۔

اس دوران یہ تو نہیں بتایا گیا کہ تجارتی حوالے سے آئرلینڈ کی سرحد کے بارے میں برطانیہ اور یورپی یونین کس طرح سے اپنے اختلاف کو سلجھائیں گے۔ تاہم اس سے اس جانب اشارہ ضرور دیا گیا کہ اصل میں اب سب باتوں کا انحصار برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین آئندہ ہونے والےتجارتی مذاکرات پر ہو گا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپی رہنما چودہ دسمبر کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جس دوران امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ کے لیے مالی تصفیہ، آئرلینڈ کی سرحدی حیثیت اور بریگزٹ کے بعد شہری حقوق جیسے معاملات پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔ اس کے بعد مذکرات کا اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے گا۔

اس سے قبل بریگزٹ مذاکرات کو اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے برطانیہ اور یورپی اتحاد کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ، برطانیہ کی مخلوط حکومت کی کلیدی پارٹی، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی، ڈی یو پی کے آئرلینڈ کے سرحدی معاملات پر رعایت دینے سے انکار تھی۔

برطانیہ شمالی آئرلینڈ کے یورپی اتحاد کی ’کسٹمز یونین‘ اور ’سنگل مارکیٹ‘ رہنے سے متعلق نام کے سوا تقریباً ہر بات ماننے پر تیار تھا لیکن ڈی یو پی کی رہنما آرلین فوسٹر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایسے قواعد کو تسلیم نہیں کرے گی جو شمالی آئرلینڈ کو برطانیہ سے الگ کرتے ہوں۔ اس اختلاف کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

مستقبل کا ڈیجیٹل یورپ کیسا ہو گا؟ ای یو رہنماؤں کی سمٹ

بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہزارہا شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ

DW.COM

اشتہار