برڈ فلو کے خلاف جنگ: جینیاتی طور پر مرغیوں کی پیداوار | سائنس اور ماحول | DW | 07.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

برڈ فلو کے خلاف جنگ: جینیاتی طور پر مرغیوں کی پیداوار

برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جینیاتی طور پر مرغی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اِس تجربے سے مرغیوں کی مہلک بیماری برڈ فلو سے نمٹنے میں آسانی پیدا ہو گی۔

برڈ فلو گزشتہ چند سالوں کے دوران امریکی پولٹری اور انڈوں کی صنعت کے لیے بہت بڑے نقصانات کا باعث بنا ہے۔ برطانوی سائنسدانوں کی یہ ریسرچ برطانوی حکومت اور چوٹی کی چکن کمپنیوں کے خواہش پر کی گئی۔ اس ریسرچ کی مدد سے رواں برس اس صنعت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی امید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس دسمبر سے اب تک برڈ فلو کے پھیلاؤ کی وجہ سے 48 ملین چکن اور ٹرکی تلف کیے جا چکے ہیں۔

برطانوی سائنسدانوں نے جینیاتی طریقے سے مرغیاں پیدا کرنے کے تجربے کے دوران اُن میں ٹیکے کے ذریعے فلوریت دار پروٹین داخل کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس لیے اس طریقہ پیداوار سے یہ توقع نہیں کی جا رہی ہے کہ پولٹری پروڈکشن پا پیداوار بہت تیز رفتار ہوگی اور ان کو بطور غذا استعمال کرنے کے بارے میں بھی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے ملنے والی اجازت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صحت کے شعبے سے متعلق امور کے نگران ادارے کی طرف سے ایسے جانوروں کے بطور غذا استعمال کی اجازت اب تک نہیں دی گئی ہے جن کی افزائش جینیاتی طریقے سے کی گئی ہو۔

برڈ فلو گزشتہ دہائی کے دوران دنیا بھر کے محققین کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن چُکا ہے۔ سائنسدان اسے پولٹری کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی گہرے خطرے کا باعث قرار دے چُکے ہیں۔ اس کے سبب برطانوی ریسرچرز برڈ فلو کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے سالوں سے محنت کر رہے ہیں۔

Vogelgrippe auf Geflügelfarm in den Niederlanden ausgebrochen

برڈ فلو کی شکار لاتعداد مرغیاں ہلاک ہوئی ہیں

ماہرین کے مطابق برڈ فلو کی وباء کی زد میں آنے والی پولٹری کے ساتھ رابطے میں رہنے والے انسانوں میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کا سب سے زیادہ خطرہ پایا جاتا ہے۔ طبی محققین نے خطرات ظاہر کیے ہیں کہ اگر برڈ فلو کسی انسان تک منتقل ہوا تو یہ انسانوں میں وبا کی شکل اختیار کرتے ہوئے تیزی سے پھیل جائے گا۔

امریکا میں حالیہ دنوں کے دوران برڈ فلو کی کسی انسان کی طرف پھیلنے کا واقع ابھی تک رونما نہیں ہوا ہے تاہم حالیہ چند سالوں کے دوران ایشیائی ممالک میں کئی ایسے مریض رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے مالیکیولر بیالوجی کے ایک سینیئر لیکچرر لورنس ٹیلی کے مطابق،’’ لوگ یقیناً اس طرح کی وباؤ کے پھیلاؤ سے باخبر ہیں اور جب اس بارے میں خبر پھیلتی تو لوگ چونگ نہیں جاتے لیکن وہ اس بات پر حیران ہیں کہ برڈ فلو جیسے وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول کے لیے زیادہ موثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔‘‘

DW.COM

اشتہار