برلینالے فلم فیسٹیول میں جنسی استحصال میں ملوث ہدایتکاروں اور اداکاروں کی فلمیں شامل نہیں کی جائیں گی | فن و ثقافت | DW | 12.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

برلینالے فلم فیسٹیول میں جنسی استحصال میں ملوث ہدایتکاروں اور اداکاروں کی فلمیں شامل نہیں کی جائیں گی

گزشتہ سال سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کے خلاف شروع ہونے والی تحریک #MeToo کے بعد 15 سے 25 فروری تک جاری رہنے والا برلینالے فلم فیسٹیول کے منتظمین فلمی صنعت میں جنسی مساوات کے مسئلے پر توجہ مرکوز کروانا چاہتے ہیں۔ 

برلن فلم فیسٹیول کا شمار یورپ کے اہم ترین فلمی میلوں میں ہوتا ہے۔ اڑسٹھویں برلینالے فلم میلے میں چار سو بین الاقوامی فلموں کی نمائش کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی مسائل بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ 15 فروری سے شروع ہونے والے برلینالے فلم فیسٹیول میں فلمی صنعت میں صنفی مساوات اور جنسی استحصال کا موضوع سرِ فہرست رہے گا۔ 

 جرمن دارالحکومت برلن میں گولڈن بیئر ایوارڈ کے مقابلے میں شریک فلموں کی اسکریننگ کا آغاز امریکی فلم ساز ویس اینڈرسن اینیمیٹڈ فلم 'Isle of Dogs' سے کریں گے۔ اس فلم میں وائس اوور کی خدمات انجام دینے والے معروف ہالی ووڈ اداکار بِل مرے، برائن کرینسٹن اور آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی گریٹا گیروِگ ریڈ کارپیٹ کی زینت بنیں گے۔

خبر رساں ادارے  اے ایف پی کے مطابق برلینالے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ فیسٹیول میں دکھائی جانے والی تمام فلموں کا چناؤ بہت محتاط انداز میں کیا گیا ہے۔   گولڈن بیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی جانے والی انیس فلموں میں سے چار فلمیں ایسی ہیں جن کی ہدایت کار خواتین ہیں۔ برلینالے کے منتظمین نے مزید بتایا، ’’اگر کوئی فلم ساز ماضی میں جنسی استحصال کی کاروائی میں ملوث رہا ہوگا تو ان کی فلم کو فیسٹیول میں شمولیت کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔‘‘

تاہم گیارہ روز تک جاری رہنے والے اس فلم فیسٹیول میں  جنسی استحصال کے حوالے سے فلمی صنعت میں طاقت کا ناجائز استعمال متعدد مباحثوں کا عنوان رہے گا۔

ہیش ٹیگ می ٹو، 2017ء میں سب سے زیادہ بااثر

برلینالے کے سابق سربراہ ڈیٹر کوسلک کے خیال میں #MeToo تحریک سے جنسی استحصال کے خلاف لوگوں کو آگاہی ملی ہے اور فلمی صنعت میں خواتین کے ساتھ سلوک میں کسی ٹھوس تبدیلی کے لیے یہ ایک اچھا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔  انہوں نے مزید بتایا کہ بیشتر ہدایتکار، اداکار یا پھر اسکرین رائٹرز کی شمولیت پر پابندی عائد کی گئی، کیونکہ اُن پر جنسی استحصال کے الزامات کا خدشہ تھا۔

تاہم فیسٹیول کے آغاز سے قبل جنوبی کوریا کی ایک اداکارہ نے برلینالے کے منتظمین پر جنوبی کوریا کے متنازعہ ہدایتکار کِم کی ڈک کو دعوت دینے پر دوغلے معیار کا الزام لگایا تھا۔ کورین اداکارہ کے مطابق کم ڈی کِک نے اُن پر نہ صرف جنسی تشدد کیا بلکہ اپنی فلم ’موئیبیس‘ میں اضافی نازیبا مناظر فلمبند کرانے پر بھی مجبور کیا تھا۔

’برلینالے‘: گولڈن بیئر دستاویزی فلم ’فائر آف سی‘ نے جیت لیا

اس بات کے جواب میں کوسلِک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فیسٹیول کے منتظمین کِم کے ماضی سے واقف ہیں لیکن ان پر جنسی تشدد کے الزامات ناکافی ثبوت کی وجہ سے ثابت نہیں ہوسکے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم کورین فلم کونسل سے اس معاملے پر تفصیلی معلومات کا انتظار کررہے ہیں، لیکن برلینالے ہر طرح کے تشدد اور جنسی استحصالی کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ اس عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘‘

 برلینالے فلم فیسٹیول کا شمار ’کن‘ اور ’وینس‘ جیسے مشہور  یورپی فلمی میلوں میں کیا جاتا ہے اور یہ فلم فیسٹیول مختلف سماجی مسائل پر تبادلہ خیال کا ایک مؤثر فورم بھی ہے۔  اس سال فیسٹیول کے پروگرام میں ایک مقامی جیل کے قیدیوں کے لیے مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف احتجاج پر مبنی فلم  "The Silent Revolution"  کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دو سال قبل جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کے لیے فیسٹیول میں تربیتی پروگرام اور مفت ٹکٹ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

DW.COM